Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مارچ 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس
    • خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
    • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان قیادت پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دیں
    • متحدہ عرب امارات پر حملوں میں ایک اور پاکستانی جاں بحق
    • افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشتگرد ہلاک
    • ایران کا آپریشن وعدہ صادق 4، اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر
    • آپریشن غضب للحق، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ، کابل میں ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا حکومت کا صوبے کے مختلف علاقوں میں مسلح طالبان کی موجودگی کا اعتراف
    اہم خبریں

    خیبر پختونخوا حکومت کا صوبے کے مختلف علاقوں میں مسلح طالبان کی موجودگی کا اعتراف

    اکتوبر 13, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    میرانشاہ میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، اہم دہشتگرد ہلاک کردیا گیا
    میرانشاہ میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، اہم دہشتگرد ہلاک کردیا گیا
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے مختلف علاقوں اور قبائلی پٹی پر مسلح طالبان کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ایسی کوئی ڈیل نہیں ہوئی جس کے تحت طالبان کو کوئی علاقہ دیا گیا ہو اور کارروائی کی اجازت دی گئی ہو ۔  انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان سے انڈر اسٹینڈنگ ہوئی ہے کہ جو کارروائی وہ کریں گے اس کی ذمے داری قبول کریں گے۔

    طالبان اور تحریک طالبان خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کس طرح موجود ہیں، اس کی تفصیل خود بیرسٹر سیف نے کچھ یوں بتائی۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان ایک تنظیم ہے، تحریک ہے جو ہمارے خلاف پاکستان کی ریاست کے خلاف لڑتی رہی ہے، ٹی ٹی پی سربراہ کا نام مفتی نور ولی محسود ہے، ان کی رہبری شوریٰ ہے جس میں مختلف علاقوں کے کمانڈرز ممبر ہیں، یہ ہے تحریک طالبان پاکستان۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کئی ایسے لوگ تھے جو پہلے تحریک کا حصہ تھے اور انہوں نے تحریک طالبان کے ساتھ پاکستان کے خلاف لڑائیوں میں حصہ لیا، تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے پاکستان حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے مذاکراتی عمل سے اختلاف کرتے ہیں، تحریک طالبان سے الگ ہونے والوں نے برملا کہا ہے کہ وہ مذاکرات نہیں، پاکستان سے جنگ چاہتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان میں جمہوری طریقے سے منتخب سویلین حکومت ہے،امریکی وزارت خارجہ
    Next Article اعظم سواتی گرفتار، جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
    Web Desk

    Related Posts

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس

    مارچ 17, 2026

    خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    مارچ 17, 2026

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان قیادت پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دیں

    مارچ 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر جائزہ اجلاس

    مارچ 17, 2026

    خیبر پختونخوا میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    مارچ 17, 2026

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغان طالبان قیادت پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دیں

    مارچ 17, 2026

    متحدہ عرب امارات پر حملوں میں ایک اور پاکستانی جاں بحق

    مارچ 17, 2026

    افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.