Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, مئی 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان کو آئی ایم ایف سے 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا
    • ملکی زرمبادلہ ذخائر ہر ہفتے بڑھ رہے ہیں، بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر پر برقرار ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
    • اسرائیلی حملے میں حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی شہید
    • دو سالوں میں ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ، قائمہ کمیٹی انکشاف
    • بھارت کا دہشت گردی ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن، معرکہ حق میں پانچ گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی: ترجمان پاک فوج
    • ملکی زرمبادلہ ذخائر میں ہر ہفتے اضافہ، بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر پر برقرار: گورنر سٹیٹ بینک
    • معرکہ حق میں قوم کا اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سویلین کا فوجی ٹرائل: جسٹس فائز اور جسٹس طارق کے علیحدہ ہونے سے نو رکنی بینچ ٹوٹ گیا
    اہم خبریں

    سویلین کا فوجی ٹرائل: جسٹس فائز اور جسٹس طارق کے علیحدہ ہونے سے نو رکنی بینچ ٹوٹ گیا

    جون 22, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر بنایا گیا نو رکنی بینچ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق کے علیحدہ ہونے سے ٹوٹ گیا، فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا فیصلہ نہیں ہوتا میں اس بنچ کو کورٹ ہی نہیں مانتا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

    لارجر بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھے۔ چیف جسٹس نے وکلاء سے کہا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی،  بنچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کچھ آبزرویشن دینا چاہتا ہوں۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں خوشی کا اظہار تو کرنے دیں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ کوئی سیاسی فورم نہیں، حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے، اس قانون کے مطابق بینچ کی تشکیل ایک میٹنگ سے ہونی ہے، کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا، اس قانون کو بل کی سطح پر ہی روک دیا گیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ 5 مارچ 2023ء کو نہ بل آیا تھا نہ ہی ایکٹ بنا تھا، مجھے تعجب ،دکھ اور صدمہ ہوا، 31 مارچ کو رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی نے سرکلر جاری کیا، رجسٹرار سپریم کورٹ کا سرکلر جاری کرنا سپریم کورٹ کی وقعت کو ظاہر کرتا ہے، سپریم کورٹ 15 مارچ کو میرا فیصلہ واپس لے لیتی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں اپنی دانست اور عقل کے مطابق بات کروں گا، جب ایک بینچ کا حصہ نہیں تھا تو مجھے کیوں شامل کیا گیا؟میں نے ایک نوٹ لکھا جو 8 اپریل کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی پاکستان کا قانون ہے، میں نے ہر نوٹ اپنے ساتھی سے شیئر کیا، ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا، انکوائری کمیشن کو پانچ رکنی بینچ نے کام سے روک دیا، انکوائری کمیشن کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا نہ جواب مانگا گیا۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کسی فیصلے پر رائے نہیں دے رہا، 4 درخواستیں دائر کی گئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی پہلی درخواست تھی جس پر اعتراض لگا، میں آج اس بینچ سے علیحدہ ہورہا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا فیصلہ نہیں ہوتا میں اس بنچ کو کورٹ ہی نہیں مانتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری رائے کو یہ نہ سمجھا جائے کہ میں نے کیس سننے سے انکار کر دیا، میرا موقف ہے کہ پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ کیا جائے۔

    قاضی فائز عیسی کے بنچ سے علیحدہ ہونے کے بعد جسٹس طارق نے بھی ان سے اتفاق کیا اور بنچ سے علیحدہ ہوگئے۔ جسٹس طارق نے کہا کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجربل پر فیصلہ نہیں ہوتا بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا، میں بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب سے اتفاق کرتا ہوں، اگر کل قانون درست قرار دے دیا گیا تو پھر اپیل کا کیا ہوگا؟

    دو ججز کے علیحدہ ہونے سے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا۔ججز کے علیحدہ ہونے پر بنچ اٹھنے لگا جس پر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ  لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، چیف جسٹس صاحب اور دیگر ججز سے گزارش ہے بیٹھے رہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی اس معاملے کا کچھ کرتے ہیں، یہ کہہ پر تمام ججز چلے گئے۔

    ججز کے علیحدہ ہونے پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے دونوں معزز جج صاحبان کا مکمل احترام ہے، میرے دل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود سمیت تمام ججز کے لیے عزت و احترام ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت آج ہوگی
    Next Article فوج چارج کرسکتی ہے لیکن ٹرائل سول عدالت میں چلے گا، سپریم کورٹ
    Web Desk

    Related Posts

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان

    مئی 7, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

    مئی 7, 2026

    ملکی زرمبادلہ ذخائر ہر ہفتے بڑھ رہے ہیں، بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر پر برقرار ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

    مئی 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان

    مئی 7, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

    مئی 7, 2026

    ملکی زرمبادلہ ذخائر ہر ہفتے بڑھ رہے ہیں، بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر پر برقرار ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

    مئی 7, 2026

    اسرائیلی حملے میں حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی شہید

    مئی 7, 2026

    دو سالوں میں ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ، قائمہ کمیٹی انکشاف

    مئی 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.