ملک بھر میں آج نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی یاد میں یومِ عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ مختلف شہروں میں شبیہِ ذوالجناح اور ماتمی جلوس اپنے روایتی راستوں پر رواں دواں ہیں، جہاں عزادار نوحہ خوانی اور مجالس کے ذریعے حضرت امام حسینؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے یومِ عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ جلوسوں کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جا رہی ہے، جبکہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار حساس مقامات پر تعینات ہیں۔ مختلف شہروں میں طبی امداد، سبیلوں اور خون کے عطیات کے کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔
کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر میں اختتام پذیر ہوگا، جبکہ لاہور میں نثار حویلی سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس کربلا گامے شاہ پہنچے گا۔
راولپنڈی میں مرکزی جلوس کرنل مقبول امام بارگاہ سے برآمد ہوا، جو راجا بازار، جامع مسجد روڈ اور پرانا قلعہ سے گزرتا ہوا قدیمی امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ پشاور میں 12 شبیہِ ذوالجناح کے جلوس نکالے جا رہے ہیں، جبکہ کوئٹہ میں مرکزی جلوس علمدار روڈ سے برآمد ہوا جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ملک کے مختلف شہروں، خصوصاً بلوچستان کے کئی علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس جزوی یا مکمل طور پر معطل رکھی گئی ہے، جبکہ متعلقہ ادارے امن و امان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

