Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جولائی 30, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومت نےڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا
    • خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، بارود سے بھری گاڑیاں بھی تباہ
    • لاہور: باغبانپورہ میں خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے 4 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق، 6زخمی
    • امریکا: ٹیکس ورلڈ این وائی سی 2026 میں پاکستان کا قومی پویلین توجہ کا مرکز، اعلیٰ معیار کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی نمائش
    • اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف
    • بلوچستان میں اغوا کے بعد 6 مزدور قتل، تربت کے نواحی علاقے سے لاشیں برآمد
    • امریکا۔ایران جنگ کا 17واں روز، چار روز بعد امریکی فضائی حملے دوبارہ شروع
    • عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا، برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں نمایاں کمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاک چین اقتصادی راہداری کے 10 سال: ترقی کا سفر جاری و ساری
    اہم خبریں

    پاک چین اقتصادی راہداری کے 10 سال: ترقی کا سفر جاری و ساری

    دسمبر 18, 2024Updated:دسمبر 18, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) نے گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ تعمیر و ترقی کے عظیم مقاصد کو سامنے رکھ کر  شروع کیے جانے والا  یہ منصوبہ اب پاکستان کی معاشی بحالی اور ترقی کا ایک جامع فریم ورک بن چکا ہے۔

    سی پیک نے بنیادی طور پر انفراسٹرکچر، توانائی، تجارت اور علاقائی استحکام پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کا آغاز 46 ارب ڈالر کے منصوبوں سے ہوا، جو بعد میں بڑھ کر 62 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ابتدائی مرحلے میں انفراسٹرکچر کی ترقی، توانائی کے منصوبے، اور گوادر بندرگاہ کی جدید کاری پر زور دیا گیا۔

    ابتدائی مرحلہ (2013-2018):
    ابتدائی مرحلے میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ اور پورٹ قاسم کول پاور پراجیکٹ کے ذریعے 3,000 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی گئی۔علاوہ ازیں شاہراہ قراقرم (KKH) کو جدید بنایا گیا اور لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کا آغاز کیا گیا۔

    توسیعی مرحلہ (2019-2023):
    اس مرحلے میں صنعتی تعاون اور سماجی شعبے کی ترقی پر توجہ دی گئی۔ گوادر فری زون کا قیام عمل میں آیا۔ رشکئی اور علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی جیسے خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے گئے۔ گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تکمیل ہوئی۔

    آئندہ مرحلہ (2023 اور اس کے بعد):
    اب سی پیک کی توجہ پائیدار ترقی، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی پر مرکوز ہے۔ مجوزہ منصوبوں میں ML-1 ریلوے منصوبے کی بہتری، گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کی سہولیات میں توسیع، اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

    اہم کامیابیاں:

    • سی پیک کے تحت پاکستان کے روڈ اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 1,500 کلومیٹر سے زائد شاہراہوں کی تعمیر، جیسے کہ ملتان-سکھر موٹروے اور ہزارہ موٹروے، نے سفر کے وقت کو کم کیا ہے۔ گوادر بندرگاہ کو ایک جدید گہرے پانی کی بندرگاہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ پاکستان کے توانائی گرڈ میں 5,320 میگاواٹ بجلی شامل کی گئی، جس سے توانائی کی قلت میں کمی آئی ہے۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ، پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ، اور قائداعظم سولر پارک جیسے منصوبوں نے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
    • سی پیک نے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثر ڈالا، سالانہ جی ڈی پی میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا، اور پاکستان کو چین کے سنکیانگ خطے اور وسطی ایشیا سے منسلک کیا۔ اس سے تجارت کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2030 تک گوادر بندرگاہ کے ذریعے برآمدات کے 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی پر زور دیا گیا ہے۔ چینی یونیورسٹیوں میں پاکستانی طلباء کے لیے اسکالرشپس اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کے قیام سے انسانی وسائل کی ترقی میں مدد ملی ہے۔

    چیلنجز کے باوجود، سی پیک پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، تجارت، اور صنعتی کاری میں انقلابی تبدیلیاں لا رہا ہے۔ اس کی کامیابی تیز رفتار منصوبہ بندی اور گورننس کے مسائل کے حل میں مضمر ہے۔ سی پیک  تمام صوبوں میں مساوی ترقی کو یقینی بنانے پر عمل پیرا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامریکی سفارتخانے کا خواتین کیخلاف افغان عبوری حکومت کی ناانصافی پر اتحاد کا مطالبہ
    Next Article رواں سال کی گلوبل کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس رپورٹ جاری
    Web Desk

    Related Posts

    حکومت نےڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    جولائی 30, 2026

    خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، بارود سے بھری گاڑیاں بھی تباہ

    جولائی 30, 2026

    لاہور: باغبانپورہ میں خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے 4 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق، 6زخمی

    جولائی 30, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومت نےڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    جولائی 30, 2026

    خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، بارود سے بھری گاڑیاں بھی تباہ

    جولائی 30, 2026

    لاہور: باغبانپورہ میں خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے 4 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق، 6زخمی

    جولائی 30, 2026

    امریکا: ٹیکس ورلڈ این وائی سی 2026 میں پاکستان کا قومی پویلین توجہ کا مرکز، اعلیٰ معیار کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی نمائش

    جولائی 30, 2026

    اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

    جولائی 30, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.