اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔
صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل موجود تھے، اس میٹنگ میں رانا ثناء اللہ موجود نہیں تھے، بتایا گیا تمام چیف جسٹسز کی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں، میں نے کہا کہ باقیوں کی کر دیں میں صرف اپنے لئے قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ نہیں پتہ کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔
چھ ججز کے خط کا معاملہ سماعت کے لئے مقرر نہ ہونے سے متعلق سوال پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز کے خط کا معاملہ کمیٹی نے مقرر کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی طبعیت کی ناسازی کے باعث نہیں آرہی تھیں اس وجہ سے بنچ نہیں بن پا رہا تھا۔
نئے عدالتی سال کے اہداف سے متعلق سوال کے جواب میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیس منیجمنٹ سسٹم میں بہتری لائیں گے، کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے۔
ہفتہ, مئی 30, 2026
بریکنگ نیوز
- افغانستان میں ٹرک الٹنے سے 10 بچوں سمیت 18 افراد جاں بحق
- عید کے تین دنوں میں بلوچستان میں ٹریفک حادثات کی بھرمار، 15 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی
- خیبر پختونخوا کابینہ میں توسیع کے بعد اختلافات، بجٹ کی منظوری خطرے میں
- لاہور میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری، 100سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے
- بلوچستان سے ٹرین آپریشن بحال، جعفر ایکسپریس مقررہ وقت پر روانہ ہوگی
- الجزیرہ نے مودی کی پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی 10 سالہ مہم ناکام قرار دے دی
- ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میٹنگ بغیر فیصلے کے ختم، ایران معاہدے پر تعطل برقرار
- وفاقی بجٹ 2026-27: سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے ریلیف کی تجاویز زیر غور

