Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی
    • لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر
    • پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ
    • پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مشرقِ وسطیٰ: محدود جنگ کا نقطۂ عروج ہے یا عالمی جنگ کا نقطۂ آغاز؟
    بلاگ جون 16, 2025

    مشرقِ وسطیٰ: محدود جنگ کا نقطۂ عروج ہے یا عالمی جنگ کا نقطۂ آغاز؟

    Facebook Twitter Email
    The Middle East: The culmination of a limited war or the beginning of a global war?
    دنیا کی نظریں اب اس سوال پر جمی ہوئی ہیں کہ کیا یہ ایک محدود جنگ کا نقطۂ عروج ہے یا کسی بڑی عالمی جنگ کا نقطۂ آغاز؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    مشرقِ وسطیٰ کے سینے میں ایک نئی آگ دہک اٹھی ہے، جس نے نہ صرف دو دیرینہ دشمنوں کو براہِ راست ہولناک جنگ میں ملوث کیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک بڑے تصادم کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان برسوں سے جاری پراکسی کشمکش نے اب کھلے جنگی معرکے کی صورت اختیار کرلی ہے، جہاں کوئی پردہ باقی رہا ہے نہ کوئی خاموشی۔ گزشتہ چند روز میں حالات اس قدر تیزی سے بدلے کہ دنیا محض دیکھتی رہ گئی۔ اسرائیل نے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کے نام سے ایک ایسا بھرپور فضائی حملہ کیا، جو جدید تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ایران کے حساس ایٹمی تنصیبات، عسکری اڈے، اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ سینٹرز، حتیٰ کہ تہران جیسے مرکزی شہر بھی نشانے پر آئے۔

    یہ حملے محض فضائیہ تک محدود نہیں تھے۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے تباہی اور نگرانی کی کارروائیاں پہلے ہی شروع کی جا چکی تھیں۔ ایران کو جوابی کارروائی کا موقع ملا تو اس نے تاخیر کیے بغیر سینکڑوں میزائل اور ڈرون اسرائیلی شہروں پر داغ دیے۔ تل ابیب، حیفہ، اور دیگر شہری مراکز میں دھماکوں کی گونج سنائی دی، درجنوں عمارتیں لرز اٹھیں اور کئی زندگیاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔

    اب تک ایران کی جانب سے 370 سے زائد میزائل اور حملہ آور ڈرونز داغے جا چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کی جدید فضائی دفاعی نظام نے بیشتر کو روک لیا، مگر اس کے باوجود کم از کم 24 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، اور 300 سے زائد زخمی ہیں۔ ایرانی سرزمین پر ہلاکتوں کی تعداد سرکاری طور پر 224 بتائی گئی ہے، مگر آزاد ذرائع کے مطابق ہلاکتیں 400 سے تجاوز کرچکی ہیں، جن میں اعلی فوجی قیادت اور ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں۔

    صورتحال اس قدر نازک ہوچکی ہے کہ اسرائیل اب زمین دوز ایٹمی تنصیبات جیسے فردو پلانٹ پر براہ راست حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کے لیے امریکہ سے ملنے والے بنکر بسٹر بموں کے استعمال کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن بظاہر اس جنگ سے علیحدگی کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ واضح اشارے ملے ہیں کہ اگر ایرانی حملے امریکی مفادات یا افواج کے قریب پہنچے تو امریکہ براہِ راست مداخلت کر سکتا ہے۔

    تہران، اصفہان اور دیگر شہروں میں بدترین خوف کی فضا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نکل رہے ہیں۔ اسرائیل نے بھی کم و بیش 3 لاکھ 30 ہزار شہریوں کو ان علاقوں سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے جہاں جوابی حملوں کا خطرہ زیادہ ہے۔ دونوں ملکوں کے تیل، بجلی، اور رہائشی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، اور عام انسان اس آگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔

    دوسری طرف سفارتی محاذ پر بھی غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی سے علیحدگی کی دھمکی دی ہے، اور یہ اندیشہ پیدا ہو رہا ہے کہ وہ ریڈیوایکٹیو "ڈرٹی بم” کے ذریعے انتقامی کارروائی پر اتر آئے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے براہِ راست امریکہ سے رجوع کرتے ہوئے اسرائیل کو روکے جانے کے عوض جوہری معاہدے میں نرمی کی پیشکش کی ہے، مگر اسرائیل کی جانب سے اس تجویز پر مکمل خاموشی ہے۔

    اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، چین اور ترکی سمیت عالمی برادری نے پرزور اپیل کی ہے کہ دونوں ممالک فوری طور پر جنگ بندی کریں، مگر اس وقت تک میدانِ جنگ میں صرف بارود کی زبان بولی جا رہی ہے۔ چار دن گزر چکے ہیں، اور ہر نیا دن نئے حملوں، نئی لاشوں، اور نئے خدشات کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔

    یہ صرف اسرائیل اور ایران کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا طوفان ہے جو اگر نہ روکا گیا تو لبنان، شام، خلیجی ممالک، اور حتیٰ کہ عالمی طاقتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس سوال پر جمی ہوئی ہیں کہ کیا یہ ایک محدود جنگ کا نقطۂ عروج ہے یا کسی بڑی عالمی جنگ کا نقطۂ آغاز؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدشمن کا انتخاب صوابدیدی ہے
    Next Article لکی مروت میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکہ ،6 سیکیورٹی اہلکار زخمی
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی

    ستمبر 23, 2026

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر

    ستمبر 23, 2026

    پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ

    ستمبر 23, 2026

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.