Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اگست 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران کا اہم دورہ کریں گے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
    • ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی
    • عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
    • وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم
    • وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی
    • ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات
    • لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی
    • بانی پی ٹی آئی کے پمز ہسپتال میں معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، صحت مند قرار
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ترجیحات بدلیں گی یا تاریخ دہرائی جائے گی؟
    بلاگ جولائی 23, 2025

    ترجیحات بدلیں گی یا تاریخ دہرائی جائے گی؟

    Facebook Twitter Email
    A Fragile But Hopeful Trade Pact Between Pakistan and Afghanistan
    Can Preferential Trade Bring Lasting Economic Stability
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ، ایک ایسی خبر جو خطے میں اقتصادی بہتری کے متلاشی افراد کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی اور وقتی معاہدہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر، مقاصد، اور ممکنہ اثرات کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف اشیاء کا تبادلہ نہیں، بلکہ اعتماد، استحکام اور باہمی مفادات کا ایک نیا باب ہے۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کے نائب وزیر صنعت و تجارت، مولوی احمد اللہ زاہد اور پاکستان کے نائب وزیر تجارت جاوید پال نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ 1 اگست 2025 سے نافذ ہوگا اور ایک سال کے لیے مؤثر رہے گا، تاہم اسے مستقبل میں توسیع دی جا سکتی ہے۔

    معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان آٹھ اہم زرعی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 60 فیصد سے گھٹا کر 27 فیصد کر دی جائے گی۔ افغانستان سے پاکستان کو انگور، انار، سیب اور ٹماٹر فراہم کیے جائیں گے جبکہ پاکستان سے افغانستان کو آم، کیلے، مالٹے اور آلو برآمد کیے جائیں گے۔

    یہ معاہدہ ایک جانب تو بلاشبہ دو طرفہ تجارتی تعلقات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے  لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی نہایت اہم ہے دونوں ممالک کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال۔ افغانستان کی عبوری حکومت کو بین الاقوامی سطح پر اب بھی مکمل پذیرائی حاصل نہیں، اور پاکستان کو اندرونی معاشی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں یہ معاہدہ ایک عملی مجبوری  بھی ہو سکتی ہے، تاکہ معاشی پہیے کو چلایا جا سکے۔

    لیکن اس مجبوری کے باوجود، اس معاہدے میں امکانات کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔ دونوں ممالک زرعی پیداوار میں طاقت رکھتے ہیں، لیکن مارکیٹ رسائی اور لاجسٹک مسائل نے ان کی صلاحیتوں کو محدود کر رکھا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے لاگو ہوتا ہے، تو کسانوں، چھوٹے تاجروں اور خریداروں  سب کے لیے یہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    کسی بھی تجارتی معاہدے کی کامیابی کا انحصار صرف معاشی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ سیاسی ہم آہنگی، سرحدی صورت حال، اور انتظامی تعاون پر ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ بارڈر بندش، سیکیورٹی خدشات اور باہمی بداعتمادی اکثر تجارت کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔

    ایک عام پاکستانی یا افغان شہری کے لیے یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے بیچ کی سفارتی بات نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی حقیقت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر عوام کو معیاری پھل اور سبزیاں مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوں، تو یہ معاہدہ براہ راست ان کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔

    اسی طرح  دونوں ممالک کے کسان اور کاشتکار جو برسوں سے منڈیوں تک رسائی کے مسائل کا شکار ہیں، اب اپنی پیداوار کو برآمد کر کے بہتر آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے، جو سرحدی تجارت پر انحصار کرتے ہیں، یہ معاہدہ ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

    اگرچہ اس معاہدے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کی کامیابی کا دار و مدار اس پر ہے کہ دونوں ممالک اسے کس سنجیدگی سے نافذ کرتے ہیں۔ صرف محصولات میں کمی کر دینا کافی نہیں، اصل چیلنج لاجسٹک سہولیات، سرحدی شفافیت، اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleزیر التوا اپیل کی بنیاد پر عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد روکنا توہین کے مترادف ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ
    Next Article خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں کا حکومتی کُل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران کا اہم دورہ کریں گے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

    اگست 23, 2026

    ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی

    اگست 22, 2026

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی

    اگست 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.