Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, فروری 12, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومتی کوششوں سے مالی خسارہ کم ہوا ہے، وزیر خزانہ
    • وزیراعظم کی صدرمملکت سے ملاقات، اہم قومی و داخلی امور پر تبادلہ خیال
    • یوکرین پر روسی جارحیت کے چار سال مکمل ہونے پر پولینڈ کے سفارت خانے میں پر وقار تقریب
    • ’پاکستان کیساتھ کھڑے رہیں گے‘، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور بحرینی وزیر داخلہ کا ٹیلی فونک رابطہ
    • سپریم کورٹ: بانی پی ٹی آئی کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی اور بیٹوں سے رابطے کیلئے سہولت دینے کا حکم
    • بنگلادیش میں جنرل اليکشن کیلئے ووٹنگ ، بی این پی اور جماعت اسلامی میں کانٹےکا مقابلہ متوقع
    • جب قیادت مفادِ عامہ کو ترجیح دے
    • امام بارگاہ خودکش حملہ، وزیراعظم کا بمبار کو روکنے والے شہری کیلئے 1 کروڑ، شہدا کے ورثا کو 50 لاکھ امداد دینے کا اعلان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشت گردوں کی ڈرون حملوں میں اضافہ کیوں۔۔؟
    بلاگ

    دہشت گردوں کی ڈرون حملوں میں اضافہ کیوں۔۔؟

    جولائی 22, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Militants Deploy Drones in Pakistan’s Northwest, Sparking Security Concerns
    Pakistan’s Police Outgunned as Militants Use Commercial Drones for Attacks
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں شدت پسندوں نے اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کمرشل کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے سیکیورٹی فورسز پر حملے شروع کررہے ہیں، جو ملک کے پہلے ہی سے شورش زدہ اور حساس خطے میں ایک خطرناک پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

    پولیس افسران کے مطابق یہ ڈرونز، جو چار پنکھوں کی مدد سے عمودی طور پر اڑان بھرنے اور زمین پر اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، شدت پسندوں کے ہاتھوں میں ایک نیا مہلک ہتھیار بن چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے محدود وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث وہ اس نئے خطرے سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

    پولیس کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں شدت پسندوں نے دو کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے بنوں کے ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ قریبی گھر میں موجود تین بچے زخمی ہو گئے۔

    پولیس کا کنہا ہے کہ ہفتے کے روز ایک اور ڈرون، جو ایک اور پولیس اسٹیشن کے اوپر پرواز کر رہا تھا، کو خودکار رائفلوں سے نشانہ بنا کر مار گرایا گیا۔ اس ڈرون میں مارٹر شیل نصب تھا۔

    صرف پچھلے دو ماہ میں بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کم از کم آٹھ ڈرون حملے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

    پولیس افسر سجاد خان کا کہنا تھا کہ شدت پسند ابھی اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں ماہر نہیں ہوئے اور اسی لیے ان کے حملے ابھی تک مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا، یہ شدت پسند جدید ہتھیار حاصل کر چکے ہیں، لیکن وہ ابھی تجربات کے مراحل میں ہیں اور اسی لیے درست نشانے لگانے میں ناکام ہیں۔”

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند کواڈ کاپٹرز کے ذریعے آئی ای ڈیز  یا مارٹر شیلز پھینک رہے ہیں، جنہیں لوہے کے ٹکڑوں اور بال بیرنگز سے بھرا گیا ہوتا ہے تاکہ زیادہ نقصان ہو سکے۔

    خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق پولیس کے پاس ان ڈرونز سے نمٹنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ ہماری فورس ان شدت پسندوں کے مقابلے میں وسائل کی شدید کمی کا شکار ہے۔

    ابھی تک کسی شدت پسند گروپ نے ان ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم اس علاقے میں سرگرم مرکزی شدت پسند گروہ تحریک طالبان پاکستان ہے، جس نے ڈرون استعمال کرنے سے انکار کیا ہے۔

    پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران ملک بھر میں شدت پسندوں کی جانب سے 335 حملے کیے گئے، جن میں 520 افراد جان سے گئے۔

    دوسری جانب حالیہ ہفتوں میں سرحدی علاقوں کے ہزاروں مکینوں نے مظاہرے کیے ہیں، جن میں انہوں نے نہ صرف شدت پسندوں کے حملوں پر احتجاج کیا بلکہ اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ فوج کی جانب سے ممکنہ کارروائی ان کے گھروں سے جبری انخلا کا سبب بن سکتی ہے۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر فوج دوبارہ بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرتی ہے تو وہ دوبارہ اپنے گھروں سے بےدخل ہو جائیں گے، جیسا کہ 2014 کے آپریشن کے دوران ہوا تھا، جب لاکھوں افراد کو کئی مہینوں یا برسوں تک اپنے علاقوں سے دور رہنا پڑا تھا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبنوں میں پولیس چوکیوں پر دہشتگردوں کے حملے بروقت جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیئے گئے
    Next Article بنگلادیش نے دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستانی ٹیم کو 8 رنز سے ہرا کر دیا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    جب قیادت مفادِ عامہ کو ترجیح دے

    فروری 11, 2026

    پشاور اجلاس کے فیصلے ،اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کی ایک کوشش ؟؟

    فروری 11, 2026

    سولر نیٹ میٹرنگ ختم،،حکومت کا عوام کے ساتھ دھوکہ ؟؟

    فروری 10, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومتی کوششوں سے مالی خسارہ کم ہوا ہے، وزیر خزانہ

    فروری 12, 2026

    وزیراعظم کی صدرمملکت سے ملاقات، اہم قومی و داخلی امور پر تبادلہ خیال

    فروری 12, 2026

    یوکرین پر روسی جارحیت کے چار سال مکمل ہونے پر پولینڈ کے سفارت خانے میں پر وقار تقریب

    فروری 12, 2026

    ’پاکستان کیساتھ کھڑے رہیں گے‘، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور بحرینی وزیر داخلہ کا ٹیلی فونک رابطہ

    فروری 12, 2026

    سپریم کورٹ: بانی پی ٹی آئی کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی اور بیٹوں سے رابطے کیلئے سہولت دینے کا حکم

    فروری 12, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.