Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, فروری 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟
    • امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا
    • وزیراعظم شہبازشریف کی امریکہ میں عالمی رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں توجہ کا مرکز بن گئیں
    • اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
    • خودمختار ساوی کی انسان دوستی قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، پروفیسر تہمیداللہ
    • پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد سامنے آگئے
    • آئی ایم ایف مشن کی آمد سے قبل بڑا انکشاف، پاکستان میں غربت بڑھ کر 28.8 فیصد ہو گئی
    • خودمختار ساوی کے ذریعے پشاور کے 50 مستحقین میں رمضان پیکیج تقسیم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » زرینہ مری،ایک من گھڑت کہانی کے ذریعے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ
    بلاگ

    زرینہ مری،ایک من گھڑت کہانی کے ذریعے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ

    اگست 27, 2025Updated:اگست 27, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    How a False Story Fueled Anti Pakistan Propaganda
    The Myth of Zarina Marri Exposed
    Share
    Facebook Twitter Email

    گزشتہ کئی برسوں سے زرینہ مری کا نام ایک مبینہ کہانی کے طور پر عالمی فورمز اور میڈیا میں گونجتا رہا ہے، جسے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ مہم کا حصہ بنا کر پیش کیا گیا۔ اس افسانوی کہانی کو سب سے پہلے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے منیر مینگل نے دنیا کے سامنے لایا، جو اپنی این جی او "بلوچ وائس ایسوسی ایشن” کے ذریعے پاکستان مخالف موقف کو فروغ دیتے رہے ہیں۔

    منیر مینگل کے دعوے کے مطابق 2005 میں بلوچستان کے ضلع کوہلو سے تعلق رکھنے والی ایک اسکول ٹیچر زرینہ مری کو گرفتار کیا گیا اور مبینہ طور پر کراچی کے ایک حراستی مرکز میں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ یہ دعویٰ مختلف عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچایا گیا، لیکن زمینی حقائق اور آزاد ذرائع کی تحقیقات نے اس بیانیے کی مکمل نفی کر دی۔

    کوہلو جیسے قبائلی معاشرے میں کسی خاتون کی گمشدگی کو خفیہ رکھنا تقریباً ناممکن ہے، تاہم زرینہ مری کے حوالے سے نہ کوئی مقامی گواہی موجود ہے اور نہ ہی کوئی ریکارڈ۔ محکمہ تعلیم کے مطابق زرینہ مری نامی کوئی ٹیچر کبھی کوہلو میں تعینات نہیں رہی۔ مزید برآں جس اسکول یعنی "گرلز مڈل اسکول کہان” میں ان کی تعیناتی کا دعویٰ کیا گیا، وہ اسکول سرکاری ریکارڈ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔

    تنخواہوں کے ریکارڈ (2004 سے 2007) کی جانچ سے بھی معلوم ہوا کہ زرینہ مری نام کی کوئی خاتون اس عرصے میں محکمہ تعلیم کا حصہ نہیں تھیں۔ صرف ایک خاتون زرینہ نرگس کا نام ریکارڈ میں بطور ٹیچر موجود ہے، جو گرلز ہائی اسکول آزاد شہر میں تعینات تھیں۔

    گورنمنٹ ہائی اسکول کوہلو کے پرنسپل اور دیگر اساتذہ نے بھی اس کہانی کو یکسر جھوٹ قرار دیا۔ پرنسپل کا کہنا تھا کہ "زرینہ مری نامی کوئی ٹیچر نہ کبھی ہمارے اسکول میں تعینات رہی اور نہ ہی اس نام کی کسی خاتون کا وجود تعلیم کے شعبے میں پایا گیا۔”

    حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کی تمام تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ زرینہ مری کا کیس ایک من گھڑت کہانی ہے، جس کا اصل مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔ اس قسم کے جھوٹے بیانیے نہ صرف قومی وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ انسانی حقوق کے سچے مقدمات کو بھی مشکوک بنا دیتے ہیں۔

    حکام نے زور دیا ہے کہ سینئر صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کو بغیر تحقیق اور ثبوت کے کسی بھی پراپیگنڈہ مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ سچائی کی راہ میں رکاوٹ بھی بنتا ہے۔

    زرینہ مری کی کہانی ایک واضح مثال ہے کہ کیسے غلط معلومات اور جھوٹے دعوے دنیا بھر میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس افسانوی بیانیے کا پردہ چاک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ آخرکار سامنے آتا ہے، اور جھوٹ پر مبنی مہمات زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکابل میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 25 افراد جاں بحق، 27 زخمی
    Next Article فیلڈ مارشل کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ترجمان پاک فوج
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026

    باجوڑ حملہ، سفارتی احتجاج اور پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ۔۔۔۔

    فروری 19, 2026

    خان کی صحت ،پی ٹی آئی قیادت کنفیوژن کا شکار؟؟؟؟؟

    فروری 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026

    امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کا نفاذ کالعدم قرار دیدیا

    فروری 20, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف کی امریکہ میں عالمی رہنماوں سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں توجہ کا مرکز بن گئیں

    فروری 20, 2026

    اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    فروری 20, 2026

    خودمختار ساوی کی انسان دوستی قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے، پروفیسر تہمیداللہ

    فروری 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.