Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, جولائی 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 13 حلقوں میں سے 7 کے نتائج مکمل، مسلم لیگ ن 5 اور پیپلز پارٹی 2 پر کامیاب
    • جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات
    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
    • بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا
    • پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی شدید مذمت، کشمیر پر مؤقف ایک بار پھر واضح
    • پشاور: پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مبینہ مقابلہ، ایک دہشت گرد ہلاک
    • آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ پُرامن ماحول میں جاری، عوام کا جمہوری عمل پر بھرپور اعتماد
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » زرینہ مری،ایک من گھڑت کہانی کے ذریعے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ
    بلاگ

    زرینہ مری،ایک من گھڑت کہانی کے ذریعے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ

    اگست 27, 2025Updated:اگست 27, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    How a False Story Fueled Anti Pakistan Propaganda
    The Myth of Zarina Marri Exposed
    Share
    Facebook Twitter Email

    گزشتہ کئی برسوں سے زرینہ مری کا نام ایک مبینہ کہانی کے طور پر عالمی فورمز اور میڈیا میں گونجتا رہا ہے، جسے پاکستان مخالف پراپیگنڈہ مہم کا حصہ بنا کر پیش کیا گیا۔ اس افسانوی کہانی کو سب سے پہلے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے منیر مینگل نے دنیا کے سامنے لایا، جو اپنی این جی او "بلوچ وائس ایسوسی ایشن” کے ذریعے پاکستان مخالف موقف کو فروغ دیتے رہے ہیں۔

    منیر مینگل کے دعوے کے مطابق 2005 میں بلوچستان کے ضلع کوہلو سے تعلق رکھنے والی ایک اسکول ٹیچر زرینہ مری کو گرفتار کیا گیا اور مبینہ طور پر کراچی کے ایک حراستی مرکز میں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ یہ دعویٰ مختلف عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک پہنچایا گیا، لیکن زمینی حقائق اور آزاد ذرائع کی تحقیقات نے اس بیانیے کی مکمل نفی کر دی۔

    کوہلو جیسے قبائلی معاشرے میں کسی خاتون کی گمشدگی کو خفیہ رکھنا تقریباً ناممکن ہے، تاہم زرینہ مری کے حوالے سے نہ کوئی مقامی گواہی موجود ہے اور نہ ہی کوئی ریکارڈ۔ محکمہ تعلیم کے مطابق زرینہ مری نامی کوئی ٹیچر کبھی کوہلو میں تعینات نہیں رہی۔ مزید برآں جس اسکول یعنی "گرلز مڈل اسکول کہان” میں ان کی تعیناتی کا دعویٰ کیا گیا، وہ اسکول سرکاری ریکارڈ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔

    تنخواہوں کے ریکارڈ (2004 سے 2007) کی جانچ سے بھی معلوم ہوا کہ زرینہ مری نام کی کوئی خاتون اس عرصے میں محکمہ تعلیم کا حصہ نہیں تھیں۔ صرف ایک خاتون زرینہ نرگس کا نام ریکارڈ میں بطور ٹیچر موجود ہے، جو گرلز ہائی اسکول آزاد شہر میں تعینات تھیں۔

    گورنمنٹ ہائی اسکول کوہلو کے پرنسپل اور دیگر اساتذہ نے بھی اس کہانی کو یکسر جھوٹ قرار دیا۔ پرنسپل کا کہنا تھا کہ "زرینہ مری نامی کوئی ٹیچر نہ کبھی ہمارے اسکول میں تعینات رہی اور نہ ہی اس نام کی کسی خاتون کا وجود تعلیم کے شعبے میں پایا گیا۔”

    حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کی تمام تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ زرینہ مری کا کیس ایک من گھڑت کہانی ہے، جس کا اصل مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔ اس قسم کے جھوٹے بیانیے نہ صرف قومی وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ انسانی حقوق کے سچے مقدمات کو بھی مشکوک بنا دیتے ہیں۔

    حکام نے زور دیا ہے کہ سینئر صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کو بغیر تحقیق اور ثبوت کے کسی بھی پراپیگنڈہ مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ سچائی کی راہ میں رکاوٹ بھی بنتا ہے۔

    زرینہ مری کی کہانی ایک واضح مثال ہے کہ کیسے غلط معلومات اور جھوٹے دعوے دنیا بھر میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس افسانوی بیانیے کا پردہ چاک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ آخرکار سامنے آتا ہے، اور جھوٹ پر مبنی مہمات زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکابل میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 25 افراد جاں بحق، 27 زخمی
    Next Article فیلڈ مارشل کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ترجمان پاک فوج
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 13 حلقوں میں سے 7 کے نتائج مکمل، مسلم لیگ ن 5 اور پیپلز پارٹی 2 پر کامیاب

    جولائی 27, 2026

    جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات

    جولائی 27, 2026

    چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات

    جولائی 27, 2026

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

    جولائی 27, 2026

    بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا

    جولائی 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.