Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, اپریل 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • گرفتار دہشتگرد کا انکشاف: افغان طالبان، داعش اور القاعدہ کی مبینہ معاونت، غیر ملکی ایجنسیوں کی مالی مدد کا دعویٰ
    • آبنائے ہرمز بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات، مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری میں ہے: پاکستان
    • اسلام آباد میں ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان، سکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ بندش کا فیصلہ
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران۔امریکہ کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کوششیں تیز
    • ٹرمپ کا دعویٰ: ایران جنگ جلد ختم ہوگی، امریکا کو کامیابی حاصل ہوگی
    • نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔
    • پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز کی مشقیں جناح 13 کامیابی سے مکمل
    • ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف پرتشدد احتجاج، سیاسی بحران کی نئی لہر
    اہم خبریں

    نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف پرتشدد احتجاج، سیاسی بحران کی نئی لہر

    ستمبر 10, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد (مبارک علی) 9 ستمبر 2025 کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج نے ملک کو گہرے سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ہزاروں مظاہرین نے حکومتی بدعنوانی، ناقص طرزِ حکمرانی اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا جن میں زیادہ تر نوجوان جنہیں "جنریشن زی” کہا جاتا ہے شامل تھے۔ مظاہرے ابتدا میں پرامن تھے لیکن جلد ہی خونریز ہو گئے، جس کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن، ربڑ کی گولیاں، اور کہیں کہیں براہِ راست فائرنگ کی جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔
    احتجاج کی وجوہات
    حکومت نے 4 ستمبر 2025 کو فیس بک، انسٹاگرام، ایکس، یوٹیوب سمیت 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی تھی، بہانہ بنایا کہ ان پلیٹ فارمز نے نیپال میں رجسٹریشن نہیں کروائی۔ عوام نے اسے آزادیِ رائے پر حملہ قراردیا۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا ان کے لیے بدعنوانی بے نقاب کرنے اور اپنی آواز اٹھانے کا اہم ذریعہ ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز، جن میں سیاستدانوں کی عیاشیوں کوعام نیپالیوں کی مشکلات سے جوڑا گیا، نے غصے کو بھڑکایا۔ مظاہرین نے نعرے لگائے: "ہماری آواز دبائی نہیں جا سکتی” اور "بدعنوانی بند کرو، سوشل میڈیا نہیں۔”
    پرتشدد واقعات
    منگل کی صبح سے کھٹمنڈو کے نیو بنی، کلنکی، چھپاگاؤں، اور دیگر علاقوں میں مظاہرین نے سرکاری عمارات پر دھاوا بولا۔ مشتعل ہجوم نے وزیراعظم کے پی شرما اولی اور صدر رام چندر پاؤڈل کی رہائش گاہوں کو نذرِآتش کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مظاہرین صدر کی رہائش گاہ میں فرنیچر توڑتے اور املاک کو تباہ کرتے دکھائی دیے۔ وزیر توانائی دیپک کھڑکا، ڈپٹی وزیراعظم بشنو پاؤڈیل، اور سابق وزرائے اعظم پشپا کمل دہال (پرچنڈا) اور شیر بہادر دیوبا کے گھروں پر بھی حملے ہوئے۔ ایک ویڈیو میں مظاہرین تجوری لوٹ کر نوٹ ہوا میں اڑائے رہے ہیں، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
    سیاسی نتائج
    شدید دباؤ کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اولی نے 9 ستمبر کو استعفیٰ دے دیا جو جولائی 2024 سے چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، انکا کہنا ہے کہ "تشدد نیپال کے مفاد میں نہیں” اور مسائل کے حل کیلئےمکالمہ ہونا چائیے۔ وزیر داخلہ رمیش لیکھک نے بھی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا۔ اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم کے پی شرما اولی دبئی فرار ہو گئے جبکہ دیگر وزراء کو فوجی بیرکوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی ہٹالی ہے لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج بدعنوانی اور ناانصافی کے خلاف ہے اور جاری رہے گا۔
    حکومتی اقدامات اور مستقبل
    حکومت نے کھٹمنڈو، للیت پور، بھکتاپور، پوکھرا، اور دیگر شہروں میں کرفیو نافذ کیا، لیکن مظاہرے جاری رہے۔ فوج کی تعیناتی اور تحقیقات کے لیے کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا، مگر عوامی غصہ کم نہ ہوا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ "جن زیڈ موومنٹ” نیپال کی تاریخ کا اہم موڑ ہے، جو بدعنوانی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف غصے کی عکاسی کرتی ہے۔ صدر پاؤڈل نے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت شروع کی ہے، لیکن سیاسی عدم استحکام کا خطرہ برقرار ہے۔ اگر عوامی مطالبات نظر انداز ہوئے، تو نیپال مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ تحریک نیپال کے نوجوانوں کی طاقت اور انصاف کے لیے عزم کی عکاسی کرتی ہے، لیکن ملک کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر سحر میں مینہ شمس اور چار ستاروں کی یادگار گفتگو، ناظرین محظوظ
    Next Article قطر پر اسرائیلی حملے کےخلاف پاکستان کا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ
    Web Desk

    Related Posts

    گرفتار دہشتگرد کا انکشاف: افغان طالبان، داعش اور القاعدہ کی مبینہ معاونت، غیر ملکی ایجنسیوں کی مالی مدد کا دعویٰ

    اپریل 17, 2026

    آبنائے ہرمز بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات، مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری میں ہے: پاکستان

    اپریل 17, 2026

    اسلام آباد میں ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان، سکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ بندش کا فیصلہ

    اپریل 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    گرفتار دہشتگرد کا انکشاف: افغان طالبان، داعش اور القاعدہ کی مبینہ معاونت، غیر ملکی ایجنسیوں کی مالی مدد کا دعویٰ

    اپریل 17, 2026

    آبنائے ہرمز بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات، مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری میں ہے: پاکستان

    اپریل 17, 2026

    اسلام آباد میں ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان، سکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ بندش کا فیصلہ

    اپریل 17, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران۔امریکہ کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کوششیں تیز

    اپریل 17, 2026

    ٹرمپ کا دعویٰ: ایران جنگ جلد ختم ہوگی، امریکا کو کامیابی حاصل ہوگی

    اپریل 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.