Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, فروری 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا
    • پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
    • پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی
    • علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپسی کا دعویٰ، خیبر پختونخوا حکومت کی تردید۔ تحریر: مبارک علی
    • وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال
    • ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا
    • وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات
    • کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شفیع اللہ گنڈاپور اور ایس ایس پی آپریشنز!
    بلاگ

    شفیع اللہ گنڈاپور اور ایس ایس پی آپریشنز!

    نومبر 7, 2025Updated:نومبر 7, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Shafiullah Gandapur and SSP Operations
    جس معاشرے میں لوگ چرس کو عام سگریٹ سے بھی کم نقصان دہ سمجھتے تھے، وہاں شفیع‌اللہ گنڈاپور نے چرس کو ممنوع قرار دیا،عدالتوں کے نام سے لوگ خوفزدہ رہتے تھے، وہاں لوگ عدالتوں میں جانے لگے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور سے رشید آفاق کی خصوصی تحریر: ۔

    میں شفیع‌اللہ گنڈاپور کو تب سے جانتا ہوں جب وہ پشاور میں ایس پی سٹی تھے،جب تک وہ ایس پی سٹی رہے، سٹی ایریا میں سنیچرز کا نام و نشان تک نہیں تھا، جرائم کی شرح بہت کم تھی،تب ہم صرف دوست تھے،جو عام طور پر ایک میڈیا پرسن اور ایک پولیس افسر کے درمیان روایتی شناخت یا دوستی ہوتی ہے ۔

    پھر قبائلی اضلاع کو ضم کیا گیا،حالات بدل گئے، ہم بھی بحث و مباحثے میں الجھ گئے،ہم پشتونوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جو چیز منتخب کرتے ہیں، دوسروں کو ان سے دور رکھنے کی کوشش اور تلقین کرتے رہتے ہیں،کبھی مولانا فضل الرحمن ہمیں مرجر سے ڈراتے رہے (جو ایک حد تک سچ بھی ثابت ہوا)، کبھی ہم یہاں پشاور میں رہتے ہوئے پولیس کی کرامات سے محفوظ رہتے، کبھی سٹوڈنٹ لائف میں ایف سی آر جیسی قوانین کی اذیت بازیوں کو محسوس کرتے ،دوسرے قبائلی نوجوانوں کی طرح ہمیں بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جائیں تو کہاں جائیں؟ کریں تو کیا کریں؟

    پھر قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ل،وہاں پولیس آ گئی، عدالتیں لگ گئیں،ہمارے شمالی وزیرستان میں بھی پولیس آ گئی،عام لوگ، قبائلی مشران اور خود خاصہ دار حیران و پریشان تھے،پھر ہمارے وزیرستان کو جو سب سے پہلا پولیس افسر بطور ڈی پی او گیا وہ شمالی وزیرستان میں شفیع‌اللہ گنڈاپور تھے،وہاں انگریز دور سے خاصہ دار اور پولیٹیکل ایجنٹ کلچر تھا؛ لوگ پولیس کو نہ صرف ناپسند کرتے بلکہ زیادہ تر لوگ پولیس کے نام سے وحشت زدہ ہو جاتے تھے،بہت لوگ پولیس سے کھلے عام نفرت کرتے تھے،

    جس معاشرے میں لوگ چرس کو عام سگریٹ سے بھی کم نقصان دہ سمجھتے تھے، وہاں شفیع‌اللہ گنڈاپور نے چرس کو ممنوع قرار دیا،عدالتوں کے نام سے لوگ خوفزدہ رہتے تھے، وہاں لوگ عدالتوں میں جانے لگے،قبائلی مشران کو یقین دلایا کہ پولیس آپ کی حفاظت اور عزتِ نفس کو بچانے کے لیے آئی ہے،لوگوں میں سیاسی اور قانونی شعور کو بیدار کیا، پولیس کو عوام دوست بنایا،وہ بھی ایک ایسے مرج ضلع میں جہاں لوگ پولیس کا نام لینا تک گوارہ نہیں کرتے تھے،یہ سب ناممکنات کو ممکنات میں اس ترتیب اور خوبصورتی سے سرانجام دیا کہ لوگ پولیس کو اپنے محافظ اور پولیس والوں کو اپنے وجود کا حصہ سمجھنے لگے،

    یہ سب کچھ شفیع‌اللہ گنڈاپور کی اپنی شخصیت، بہترین حکمتِ عملی، قابلیت، ذہانت اور ہر دل عزیز ہونے کی وجہ سے ممکن ہوا،شفیع‌اللہ گنڈاپور چونکہ خود ایک خاندانی آدمی ہیں، اس لیے قبائلی عوام کی عزتِ نفس کو مجروح ہونے سے بچایا،انھیں جرگوں کے ذریعے، پیار و محبت سے سمجھایا کہ یہ وطن اور اس مٹی پر جانیں نچھاور کرنے والے پولیس ہی ہیں، آپ ہی کی مرہونِ منت پولیس کامیاب ہوگی اور جب پولیس کامیاب ہوگی تو ایک پرامن معاشرہ وجود میں آئے گا،

    پھر وہ دن بھی اہل شمالی وزیرستان نے دیکھا کہ لوگ سڑکوں، شاہراہوں اور گاؤں میں پولیس پر پھول نچھاور کیا کرتے تھے،پولیس فعال ہوگئی، پولیس اسٹیشنز بن گئے، چوکیوں میں عملہ آباد ہوگیا، پولیس سینہ تان کر گلی گلی، محلے محلے تک پہنچ گئی،یہ جو اب عوامی پولیسنگ کے نعرے بلند کیے جا رہے ہیں، یہ شفیع‌اللہ گنڈاپور نے ایک ایسے قبائلی علاقے میں ممکن کر کے دکھایا جہاں لوگ پولیس کو جانتے بھی نہیں تھے،اس نفیس پولیس افسر نے اتنی نفاست اور جانفشانی سے شمالی وزیرستان میں ایک ایسی پولیس کی بنیاد رکھی جو عرصہ تک لوگوں کو یاد رہے گی،اس کے علاوہ بھی شفیع‌اللہ گنڈاپور جہاں رہے ایک عہد ساز وقت گزارا،

    پھر وہاں حالات کو بدلنا تھا، نئے فیصلے اور منصوبے بنائے گئے،اس لیے دیگر قبائلی علاقوں کی طرح وہاں بھی پولیس کو زیربام اور زیرِ عتاب رکھا گیا،اگرچہ وہاں اب بھی ڈی پی او وقار احمد کی طرح پولیس افسر موجود ہیں جو جان تو فرائض کی بجاآوری پر قربان کر سکتے ہیں اور پولیس کی شان پر کمپرومائز نہیں کرتے،

    ہمارے پشاور میں بہت کم عرصے کے لیے مسعودبنگش بطور ایس ایس پی آپریشن آئے جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگر خلوصِ نیت ہو تو کسی بھی شہر کو بلاؤں سے بچایا جا سکتا ہے،ان کا تبادلہ ہوگیا اور وہ بطور ڈی پی او مردان منتقل ہو گئے،اب یہاں پشاور میں پھر ایک ایسے نڈر اور بہادر ایس ایس پی آپریشنز کی ضرورت ہے جس کے لیے میرے خیال میں شفیع‌اللہ گنڈاپور کے مقابلے میں شاید کوئی کامل پولیس افسر ملے،

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو!

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleقازقستان نے معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کرلی،امریکی صدر ٹرمپ کا اعلان
    Next Article پاکستان نے استنبول مذاکرات میں ثالثوں کو شواہد پر مبنی مطالبات حوالے کردیئے، دفتر خارجہ
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے روز مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 1632 پوائنٹس گر گیا

    فروری 25, 2026

    پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    فروری 25, 2026

    پشاور ہائی کورٹ نے وادی تیراہ آپریشن پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی

    فروری 25, 2026

    علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپسی کا دعویٰ، خیبر پختونخوا حکومت کی تردید۔ تحریر: مبارک علی

    فروری 25, 2026

    وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال

    فروری 24, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.