Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اکتوبر 6, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان کا مقامی طور پر تیادہ کردہ فتح 4 کروز میزائل کے ایکسٹینڈڈ ورژن کا کامیاب تجربہ
    • وزیراعظم شہبازشریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کردی
    • ایران اور امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس
    • ڈی آئی خان میں فائرنگ کے مختلف واقعات، ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید
    • گندم مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس، کسانوں کے مفادات کے تحفظ پر زور
    • سکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے جنوبی بلوچستان میں کھلی کچہریوں اور جرگوں کا انعقاد
    • شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، 5 خوارج ہلاک، 2 زخمی
    • پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون پر اہم پیش رفت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟
    بلاگ جنوری 6, 2026

    شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟

    Facebook Twitter Email
    Why was the green silence of Shakarparian broken
    درختوں کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد کو اگر دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ اس کے پہاڑ، درخت اور سبز پٹیاں ہیں،شکرپڑیاں اسی سبز شناخت کی علامت تھا ایک ایسا علاقہ جہاں گھنا جنگل نہ صرف شہر کی خوبصورتی بڑھاتا تھا بلکہ درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا تھا، مگر آج یہی شکرپڑیاں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے بعد گنجا اور بنجر دکھائی دے رہا ہے ۔

    حالیہ مہینوں میں شکرپڑیاں کے مختلف حصوں میں ہونے والی کٹائی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے, کم از کم چار بڑے علاقے، جو مجموعی طور پر تقریباً 15 ایکڑ پر مشتمل ہیں، اب سبزے سے خالی ہو چکے ہیں وہ راستے جہاں پہلے درختوں کی اوٹ میں سڑکیں اور ایکسپریس وے نظر نہیں آتے تھے، اب کھلے اور بے پردہ دکھائی دیتے ہیں، یہ تبدیلی صرف منظر کی نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کی بھی ہے ۔

    کیپٹیل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے مطابق یہاں صرف پیپر ملبری کے درخت ہٹائے گئے، جنہیں پولن الرجی کا سبب قرار دیا جاتا ہے، بظاہر یہ دلیل وزن رکھتی ہے، مگر جب پورا علاقہ بنجر نظر آنے لگے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کٹائی واقعی صرف ایک ہی قسم تک محدود رہی؟ اگر مقصد صحتِ عامہ تھا تو اس کا حل اندھا دھند کٹائی کے بجائے تدریجی اور متبادل شجرکاری بھی ہو سکتا تھا ۔

    ماحولیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شکرپڑیاں جیسے قدرتی گرین بیلٹ میں مداخلت کے اثرات فوری نہیں بلکہ دیرپا ہوتے ہیں، درخت صرف سایہ نہیں دیتے، وہ درجہ حرارت کم کرتے، ہوا کو صاف رکھتے اور شہری زندگی کو قابلِ برداشت بناتے ہیں، ان کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے وہ مسائل جن سے اسلام آباد پہلے ہی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا ۔

    یہ معاملہ صرف شکرپڑیاں تک محدود نہیں، شہر کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر درختوں کی قربانی ایک معمول بنتی جا رہی ہے ۔

    سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کس قیمت پر؟ اگر سڑکیں، انٹرچینجز اور پارکس قدرتی ماحول کو قربان کر کے بنائے جائیں تو یہ ترقی پائیدار کیسے کہلائے گی؟

    اعلان تو یہ کیا جا رہا ہے کہ مقامی درخت لگائے جائیں گے اور سبزہ بحال ہوگا، مگر اسلام آباد کے ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ شجرکاری کے وعدے اکثر فائلوں اور تصویروں تک محدود رہ جاتے ہیں، ایک درخت کو اگنے میں دہائیاں لگتی ہیں، اور اس کا نعم البدل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔

    شکرپڑیاں کی موجودہ حالت ایک انتباہ ہے یہ یاد دہانی کہ دارالحکومت کی سبز شناخت خود بخود محفوظ نہیں رہے گی۔، اس کے لیے شفاف فیصلے، سائنسی بنیادوں پر پالیسیاں اور حقیقی ماحولیاتی ترجیحات ضروری ہیں، ورنہ خطرہ یہ ہے کہ آنے والی نسلیں شکرپڑیاں کو صرف تصویروں اور پرانی خبروں میں ہی دیکھ پائیں گی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدہشت گردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف اپنی ریاست کے خلاف کیوں کھڑی ہے؟
    Next Article انڈر 19 سہ ملکی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے زمبابوے کو ہرا کر ٹرافی اپنے نام کرلی
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان کا مقامی طور پر تیادہ کردہ فتح 4 کروز میزائل کے ایکسٹینڈڈ ورژن کا کامیاب تجربہ

    اکتوبر 6, 2026

    وزیراعظم شہبازشریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کردی

    اکتوبر 6, 2026

    ایران اور امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس

    اکتوبر 6, 2026

    ڈی آئی خان میں فائرنگ کے مختلف واقعات، ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید

    اکتوبر 6, 2026

    گندم مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس، کسانوں کے مفادات کے تحفظ پر زور

    اکتوبر 6, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.