Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مئی 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی، پاکستان کی بھارت سے وضاحت طلب
    • ایران کا امریکی جنگ بندی تجویز پر غور جاری، پاکستان کے ذریعے پیغام موصول ہونے کی تصدیق
    • نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ناروے کے نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
    • پاکستان نے آئی ٹی مہارت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں میں کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا
    • آلودگی سے پاک بندرگاہیں محفوظ نیویگیشن کیلئے ناگزیر، وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری
    • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 2610 پوائنٹس بڑھ گیا
    • ملک کے مختلف شہروں میں بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی
    • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو، خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    بلاگ

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    جنوری 22, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Regulatory reforms as a means of strengthening state authority
    مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    وطن عزیز میں ضابطہ جاتی اصلاحات کو طویل عرصے سے بیرونی دباؤ خصوصاً یورپی مطالبات کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے, جب یورپی سرمایہ کار پیش گوئی، ٹیکس نظام یا قوانین کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے قومی خودمختاری کے خلاف مداخلت قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ضابطہ جاتی اصلاحات کسی کے سامنے جھکنے کا عمل نہیں بلکہ ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں ۔

    یورپی یونین پاکستان بزنس فورم 2026 اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ یورپی سرمایہ کاری کی راہ میں اصل رکاوٹ دلچسپی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، قوانین موجود ہیں مگر ان کا اطلاق یکساں نہیں، پالیسیاں اعلان کے بعد تبدیل ہو جاتی ہیں، مراعات دی جاتی ہیں اور پھر خاموشی سے واپس لے لی جاتی ہیں، یہ مسائل کسی بیرونی طاقت کی پیداوار نہیں بلکہ ہمارے اپنے نظامِ حکمرانی کی کمزوریاں ہیں اور جب تک یہ کمزوریاں دور نہیں ہونگی ملک کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

    ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی نظام ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، جب قوانین مستقل ہوں تو سرمایہ کار طویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں، صنعتیں فروغ پاتی ہیں اور ٹیکس وصولی دباؤ کے بجائے نظام کے تحت ہوتی ہے، جس سے ریاستی عملداری متاثر ہوتی ہے ۔

    اکثر اصلاحات کی مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ سٹریٹجک خودمختاری کے خلاف ہیں، مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔

    یورپی یونین کی جانب سے ضابطہ جاتی وضاحت کا مطالبہ کسی شرط کے مترادف نہیں بلکہ ایک جانچ کا پیمانہ ہے، یورپی سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان اپنی پالیسیوں اور وعدوں پر قائم رہ سکتا ہے، اگر ریاست تسلسل کی ضمانت نہیں دے سکتی تو معاشی خودمختاری کا دعویٰ بھی کمزور پڑ جاتا ہے ۔

    پاکستان کو اگر قیاس آرائی کے بجائے دیرپا سرمایہ کاری درکار ہے تو اصلاحات کو بیرونی دباؤ نہیں بلکہ قومی ضرورت کے طور پر اپنانا ہوگا، یہی ریاستی وقار اور خودمختاری کی اصل بنیاد ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleصدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے
    Next Article عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی
    webdesk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا: وسائل سے مالا مال مگر معاشی حقوق پامال, تحریر: قریش خٹک

    مئی 4, 2026

    جدیدیت اور بے ساختہ خواہشات کا بوجھ !

    مئی 3, 2026

    آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ

    مئی 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    دریائے چناب میں پانی کی آمد میں بڑی کمی، پاکستان کی بھارت سے وضاحت طلب

    مئی 4, 2026

    ایران کا امریکی جنگ بندی تجویز پر غور جاری، پاکستان کے ذریعے پیغام موصول ہونے کی تصدیق

    مئی 4, 2026

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ناروے کے نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

    مئی 4, 2026

    پاکستان نے آئی ٹی مہارت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں میں کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا

    مئی 4, 2026

    آلودگی سے پاک بندرگاہیں محفوظ نیویگیشن کیلئے ناگزیر، وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری

    مئی 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.