امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی پیر کے روز ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی جب تازہ میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں اور سخت سیاسی بیانات نے پورے خطے کو مکمل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ یہ بحران اب ایران، اسرائیل، لبنان اور کئی خلیجی ممالک تک پھیل چکا ہے، جس سے وسیع علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
لبنان میں مسلسل دوسرے روز اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق جبکہ کم از کم 149 زخمی ہوئے۔ لبنانی حکام نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب حزب اللہ نے اسرائیلی شہر حیفا کی جانب میزائل داغے اور اسے ایرانی سپریم لیڈر کی مبینہ ہلاکت کا بدلہ قرار دیا۔
حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیلی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا کہ بیشتر راکٹ فضا میں ہی ناکارہ بنا دیے گئے اور بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر جوابی بمباری کی گئی۔
امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی اس وقت مزید پھیل گئی جب ایران نے بحرین میں امریکی اہداف پر تازہ حملے کیے۔ حکام کے مطابق حملے میں ایک ایشیائی شہری ہلاک ہوا۔ منامہ میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کے قریب دھوئیں کے بادل دور تک دکھائی دیے۔
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور سینکڑوں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اطلاعات کے مطابق خطے میں موجود ایک امریکی طیارہ بردار جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
اسی دوران کویت میں ایک امریکی ایف 15 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہونے کی خبر سامنے آئی۔ پائلٹ بروقت جہاز سے نکلنے میں کامیاب رہا اور زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر طیارے میں آگ لگنے کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں۔
واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات، ایرانی فضائی دفاعی نظام اور بحری اہداف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 48 اہم ایرانی شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں اور ایران کی ملٹری کمان کا ڈھانچہ ٹوٹ چکا ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی افواج کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے والوں کو رعایت دی جا سکتی ہے، بصورت دیگر سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ تہران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے امریکا سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ایران بھرپور دفاع جاری رکھے گا۔
ایرانی فوجی قیادت نے واضح کیا کہ ڈرون، فضائی دفاعی نظام اور بحریہ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ملک کے دفاع میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچ چکے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں اسرائیل، لبنان، بحرین، کویت اور خلیجی خطہ براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ تیزی سے بدلتے حالات اور مسلسل حملوں نے اس بحران کو حالیہ برسوں کا سب سے سنگین سیکیورٹی چیلنج بنا دیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا سفارت کاری کا راستہ نکلے گا یا یہ تصادم مزید شدت اختیار کرے گا۔

