کابل: (مبارک علی) افغان وزارت دفاع نے بگرام ایئربیس پر پاکستانی فضائی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے حملوں نے سابق امریکی فوجی اڈے بگرام میں شدید تباہی مچائی ہے، جو پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر کیے گئے کسی بھی فضائی حملے میں سب سے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارت دفاع کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ حملوں میں متعدد اہم اثاثے تباہ ہوئے، جن میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، ایک ہرکولیس کارگو طیارہ، ایک ٹوکا نو طیارہ اور کئی بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔ یہ حملے اتوار کی صبح تقریباً پانچ بجے کے قریب کیے گئے، جب پاکستانی لڑاکا طیاروں نے افغان فضائی حدود میں داخل ہو کر بگرام کو نشانہ بنایا۔ افغان حکام نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے اینٹی ایئر کرافٹ اور میزائل دفاعی نظام نے حملے کو ناکام بنا دیا، تاہم سیٹلائٹ تصاویر اور تازہ رپورٹ سے تصدیق ہوئی ہے کہ اڈے پر دھماکے ہوئے اور عمارتیں تباہ ہوئیں۔
یہ واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کا حصہ ہے، جسے پاکستانی حکام "کھلی جنگ” قرار دے چکے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہیں جو افغانستان میں پناہ گزین ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
بگرام ایئربیس، جو کابل کے شمال میں واقع ہے، امریکہ کے انخلا کے بعد طالبان کے کنٹرول میں آیا تھا اور اسے افغان فورسز کا اہم اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے سے افغان فضائی صلاحیت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور فضائی حملوں کا سلسلہ گزشتہ ہفتے سے جاری ہے، جس میں پاکستان نے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ بین الاقوامی برادری نے سیز فائر کی اپیل کی ہے مگر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
پاکستان کا موقف ہے کہ دھشتگردوں کی سہولتکاری کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔

