تہران/واشنگٹن — ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن "وعدہ صادق 4” کے تحت اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی 57ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تازہ کارروائیوں میں خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے، جبکہ حملوں کی تصدیق بین الاقوامی ذرائع نے بھی کی ہے۔
آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق ان حملوں کو "یا سید الساجدینؑ” کے نام سے منسوب کیا گیا اور رمضان کے دوران شہید ہونے والے شیرخوار بچے مجتبیٰ کے نام کیا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور میزائل دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر میں قائم امریکی العدید ایئر بیس پر بھی میزائل اور ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں ذوالفقار اور قیام میزائل استعمال ہوئے۔
دوسری جانب امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ ایران کے حملوں سے خلیجی خطے میں امریکا کی متعدد فوجی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کم از کم 17 امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچا جبکہ 22 میں سے 11 تنصیبات ایرانی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔
جنگ کے نتیجے میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل میں 15 ہلاکتیں اور ہزاروں زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک میں بھی جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔
ادھر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر حملے جاری ہیں۔ ایرانی صوبہ مرکزی میں حالیہ بمباری کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق مجموعی طور پر شہدا کی تعداد 1500 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 18 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔
لبنان میں بھی اسرائیلی حملوں کے باعث بھاری جانی نقصان ہوا ہے جہاں 850 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کا استعمال بند ہونا چاہیے کیونکہ اس سے علاقائی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر فرانسیسی صدر سے بھی بات چیت کی ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ایران ضرورت پڑنے پر طویل جنگ کے لیے تیار ہے اور فی الحال سفارتی حل ترجیح نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے زمینی فوجی کارروائی کی تو اسے ویت نام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Keyword:
Iran Israel Conflict
Slug:
iran-israel-conflict

