افغانستان کا ذکر آتے ہی بھارت کے بیانیے میں پاکستان کے خلاف الزامات کا ایک اور باب کھل جاتا ہے، کیونکہ اسے خطے کی سیاست میں اپنے پاکستان مخالف کردار پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ جب بھی افغانستان کی صورتحال پر بحث ہوتی ہے تو نئی دہلی فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے، گویا خطے کے تمام مسائل کی جڑ اسلام آباد ہی ہو۔ لیکن زمینی حقائق اس سادہ بیانیے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان گزشتہ دو دہائیوں سے جنوبی ایشیا کی تزویراتی رقابت کا ایک اہم میدان بنا ہوا ہے جہاں مختلف علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ اور اثر و رسوخ کے لیے سرگرم رہی ہیں۔
حال ہی میں بھی یہی منظر دیکھنے میں آیا جب بھارت کی وزارت خارجہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کو جارحیت قرار دینے کی کوشش کی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس بیان کو نہ صرف بے بنیاد بلکہ “لغو، غیر ضروری اور انتہائی منافقانہ” قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے آپریشن “غضب للحق” جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ کارروائی فروری کے آخر میں اس وقت شروع کی گئی جب افغان سرزمین سے دہشت گرد عناصر کی جانب سے اشتعال انگیز فائرنگ اور دراندازی کے واقعات سامنے آئے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ یہ اقدامات افغانستان کے خلاف نہیں بلکہ ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہیں جو افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملے کرتے رہے ہیں۔
بھارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں اور انہیں جارحیت قرار دیا۔ تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف انتہائی محتاط اور ہدفی نوعیت کی ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کے الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ ان میں کھلی منافقت بھی جھلکتی ہے۔
پاکستان کا مؤقف یہ بھی ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرگرمیوں میں بھارت کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ فتنہ الخوارج دراصل تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے جبکہ فتنہ الہندوستان بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیوں نے ان عناصر کے سرپرستوں کو پریشان کر دیا ہے، اسی لیے بھارت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا۔ پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان کے حوالے سے ہونے والی بحث کے دوران بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی افغان پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا رہا ہے۔ ان کے مطابق نئی دہلی مسلسل ایسے عناصر کی پشت پناہی کرتا رہا ہے جو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جن میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں کے نام بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے افغانستان سے ملحق سرحد محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ایک نہایت حساس مسئلہ ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑی ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ ملک کو بھاری معاشی اور سماجی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے دہشت گردی کا مسئلہ محض سفارتی بحث نہیں بلکہ ایک حقیقی اور فوری سکیورٹی چیلنج ہے۔
افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے کے سکیورٹی حالات میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ اگرچہ افغانستان میں ایک نئی سیاسی حقیقت سامنے آئی، مگر اس کے ساتھ ساتھ کئی ایسے چیلنجز بھی ابھرے جنہوں نے پاکستان کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دیں۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ تحریک طالبان پاکستان جیسے شدت پسند گروہوں کی دوبارہ منظم سرگرمیاں ہیں۔
افغانستان کے بعض سرحدی علاقوں میں محدود ریاستی کنٹرول اور دشوار گزار جغرافیائی حالات نے ان عناصر کو دوبارہ متحرک ہونے کا موقع فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو مسلسل سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی ذمہ دار ریاست کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں خاموش تماشائی بنی رہے۔
پاکستانی قیادت بھی بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکی ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف ایک “کم شدت کی جنگ” جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق نئی دہلی خطے میں اپنی تزویراتی ناکامیوں کا ازالہ کرنے کے لیے افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک سیاسی اور سکیورٹی محاذ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
اگر بھارت کی افغانستان سے متعلق پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو اس کے کئی پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت نے افغانستان میں سفارتی، اقتصادی اور سیاسی موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھایا۔ نئی دہلی نے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سفارتی روابط کے ذریعے کابل میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔ بھارت نے ان سرگرمیوں کو افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اپنی معاونت کے طور پر پیش کیا، تاہم پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں میں اس پالیسی کو ہمیشہ شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔
جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں افغانستان کو اکثر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بالواسطہ میدان کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ دونوں ممالک کی پالیسیاں اکثر ایک دوسرے کے اثر کو محدود کرنے کی کوششوں سے متاثر رہی ہیں۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو افغانستان میں بھارت کی موجودگی اسے مغربی سرحد پر ایک اضافی سکیورٹی دباؤ کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں سلامتی کے مسائل اکثر باہمی بداعتمادی اور سیاسی رقابت کی نذر ہو جاتے ہیں۔ دہشت گردی جیسے سنگین مسائل بھی اکثر سیاسی بیانیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ افغانستان کی صورتحال اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا راستہ الزام تراشی یا سیاسی بیانیوں سے نہیں نکلتا۔ اگر افغانستان کو علاقائی رقابت کا میدان بنائے رکھا گیا تو اس کے اثرات صرف پاکستان یا افغانستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا جنوبی ایشیا عدم استحکام کی نئی لہروں کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ علاقائی سیاست الزام تراشی کے شور سے نکل کر حقیقت پسندانہ سوچ کی طرف بڑھے، ورنہ یہ خطہ بدستور کشیدگی اور بداعتمادی کے اسی دائرے میں گھومتا رہے گا جس کا خمیازہ بالآخر سب کو بھگتنا پڑے گا۔

