امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی میزائل سائٹس کو طاقتور بنکر بسٹر بموں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے، جو زیرِ زمین بنکرز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے ساحلی علاقوں میں موجود مضبوط اور محفوظ میزائل تنصیبات کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا، جہاں 5000 پاؤنڈ وزنی خصوصی بم استعمال کیے گئے۔
امریکی حکام کے مطابق ان مقامات پر نصب ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے، جس کے باعث کارروائی ضروری سمجھی گئی۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، اور اس تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں استعمال ہونے والے بنکر بسٹر بم، گزشتہ سال ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر استعمال کیے گئے بموں کے مقابلے میں کم طاقتور تھے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ تنازع کے آغاز کے بعد اس خطے میں کئی بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کو اس گزرگاہ کو بند کرنے کے لیے اپنے وسائل کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ہر ماہ تقریباً 3000 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں، جبکہ 2025 میں روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اس گزرگاہ سے منتقل ہوا، جس کی سالانہ مالیت تقریباً 600 بلین ڈالر بنتی ہے۔
یہ تیل صرف ایران ہی نہیں بلکہ عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک سے بھی برآمد کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2022 میں اس راستے سے گزرنے والے تقریباً 82 فیصد تیل اور مائع ہائیڈروکاربن ایشیائی ممالک کو فراہم کیے گئے۔
آبنائے ہرمز بڑے تیل بردار جہازوں کے لیے نہایت اہم اور گہرا راستہ ہے، تاہم اس کے تنگ ترین مقام پر یہ ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے اندر واقع ہے۔ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ممالک کو اپنے ساحلی علاقوں سے 12 ناٹیکل میل تک سمندری حدود پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔

