امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ڈیل چاہتا ہے اور اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں جن سے کسی نہ کسی نتیجے کی امید ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنی پڑے گی اور یہ کہ ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے “رجیم” سے پیدا ہونے والے خطرے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسے اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا، اس لیے اس معاملے پر کنٹرول ضروری ہے۔
بعد ازاں میامی میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے گفتگو کے دوران غلطی سے “اسٹریٹ آف ٹرمپ” کہہ دیا اور بعد میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب آبنائے ہرمز تھا۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ میڈیا اس پر تبصرے کرے گا۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے اسے “کاغذی شیر” قرار دیا اور کہا کہ امریکہ ہمیشہ نیٹو کی مدد کرتا رہا لیکن بدلے میں خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت جیسے ممالک نے امریکہ کی مدد کی اور اس کے ساتھ کھڑے رہے۔

