خطے میں جاری امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع نے عالمی سفارتکاری کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس جنگ میں پاکستان نے غیرمتوقع طور پر ثالث کا کردار سنبھال لیا ہے۔ اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی میزبان بنانے کی پیشکش، امریکی 15 نکاتی امن پلان کی ترسیل اور بالواسطہ بات چیت کی سہولت کاری — یہ سب پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کے واضح ثبوت ہیں۔
پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جس کے امریکہ، ایران، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن اور اچھے تعلقات ہیں۔ جنگ کے آغاز سے ہی پاکستان نے غیرجانبداری اختیار کی، اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور اسے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اس نے نہ صرف فورموں پر آواز اٹھائی بلکہ عملی طور پر امن کی کوششوں میں سرگرم ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزیشکیان کے درمیان بالواسطہ رابطے پاکستان کے ذریعے قائم ہوئے۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ پاکستان پیغامات کی ترسیل کر رہا ہے جبکہ ترکی اور مصر بھی اس عمل میں معاون ہیں۔
اصل میں جنگ سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتنیاہو نے موساد کی رپورٹس کو توڑ مروڑ کر ٹرمپ انتظامیہ کو قائل کیا کہ ایرانی اعلیٰ قیادت کے خاتمے سے رژیم چند دنوں میں ڈھے جائے گی۔ نتنیاہو نے ٹرمپ کو وینزویلا طرز کی فوری کامیابی کا یقین دلایا۔ تاہم پاکستان نے اس اندازے کو غلط قرار دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ سے براہ راست فون پر بات کی اور خطے کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ پاکستانی سفارتی چینلز نے بھی واشنگٹن کو خبردار کیا کہ ایران کی قیادت کو عوامی حمایت حاصل ہے اور اس کا خاتمہ آسان نہیں ہو گا۔
جنگ ایک ماہ گزرنے کے بعد پاکستان کی پیش گوئی سو فیصد درست ثابت ہوئی۔ ایران نے ثابت قدمی سے مزاحمت کی، کوئی جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیا اور علاقائی حملوں کا جواب دیا۔ اس سے امریکی ایوان اقتدار میں پاکستان کی ساکھ بڑھ گئی۔ اب پاکستان نہ صرف پیغامات پہنچا رہا ہے بلکہ اسلام آباد میں ممکنہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کر چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالیباف کے درمیان ملاقات اسلام آباد میں ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی ثالثی کی کامیابی کے پیچھے اس کے متوازن تعلقات، علاقائی استحکام میں دلچسپی اور معاشی خطرات (تیل کی قیمتیں اور مہنگائی) ہیں۔ یہ کردار پاکستان کو عالمی سفارتکاری میں ایک اہم کھلاڑی بنا رہا ہے۔
اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو نہ صرف جنگ ختم ہو گی بلکہ پاکستان کی سفارتی پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔

