تحریر: حیات احمد
انسانی زندگی خواہشات، جذبات اور معاشرتی تقاضوں کے درمیان ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، محدود وسائل اور لامحدود خواہشات ہمیشہ سے انسان کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کرتی آئی ہیں کہ آخر حقیقی خوشی کہاں ہے؟ جدید دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام اور ٹیکنالوجی نے بظاہر انسان کو بے پناہ آسانیاں فراہم کی ہیں مگر اسی ترقی نے ذھنی تناؤ، بے چینی اور مایوسی جیسے نئے مسائل کو جنم دیا ہے، آج انسان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معلومات کی دنیا اس کی مٹھی میں ہے، مگر ذہنی سکون اس کی گرفت سے نکلتا جا رہا ہے ۔
سوشل میڈیا کی ایجاد نے دنیا کو تو قریب کر دیا، لیکن انسان کو اس کی اپنی ذات سے بہت دور لے گئی ہے، ایسے میں یہ سوال بہت اہم بن جاتا ہے کہ انسان کی خوشی اور سکون کا اصل مرکز اس کی خواہشات ہیں یا اس کی فطرت میں موجود سادگی اور قناعت؟
محدود وسائل اور خواہشات زندگی جینے کا اصل راز ہے، یہ سرمایہ دارانہ نظام اور بے ساختہ خواہشات انسان کا جینا حرام کر دیتی ہے، زندگی کا ایک اٹل حقیقت یہ ہے کہ آپ ہر وقت ، ہر جگہ اور ہر منزل پر کبھی خوش نہیں رہ سکتے، یہ جدیدیت اور مادہ پرستی انسان کے حقیقی جذبات کو مجروح کر دیتی ہے، آج کل دنیا مخض ایک چھوٹے سے گاؤں کی مانند ہے، جھاں دنیا کے کونے کونے تک آپ کی رسائی گھنٹوں میں ہو سکتی ہے لیکن ان سب نے ایک عجیب قسم کے مسائل کو جنم دیا ہے، کیونکہ انسان ایک وقت پر بے شمار خواھشات، جو زیادہ تر سوشل میڈیا سے جنم لیتے ہیں ، کو قابو میں نہیں رکھ سکتا اور اسی بنا پر دنیا بھر میں ذھنی تھکاوٹ ، ٹینشن اور بے جا فکری تناؤ کا اِضافہ ہو رہا ہے ۔
انسان کے طبیعیات کے لحاظ سے تاریخی طور پر دو نظریات پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ انسان لالچی اور خواہشات کا غلام ہے، دوسرا نظریہ اس سے مختلف ہے اور وہ انسان کو ایک مثبت تخلیق تصور کرتی ہے، دوسرے نظریے کا دلیل یہ ہے کہ معاشرہ اور ماحولیات انسان کو ایک راہ پر کر دیتی ہے چاہے وہ صحیح ہو یا غلط ۔
ان دونوں میں سے کسی ایک کو ٹھیک کہنا شاید مشکل کام ہے لیکن میرا اپنا فکر اور تجربہ مجھے دوسرے نظریے کی قبولیت پر مجبور کر دیتا ہے، کیونکہ تاریخی طور پر انسانی زندگی بہت سکون کی تھی، اب سکون کو ہم بیان کس طرح کریں گے؟ تو سکون دراصل مالی وسائل ، جدیدیت اور خواہشات سے ماورا ہے، میرے مطابق یہ ہر انسان کی فطرت پر منحصر ہے ۔
مثال کے طور پر کچھ لوگ فطری طور پر سادگی پسند اور روایتی طور طریقوں میں اپنے آپ کو خوش پاتے ہیں، اس کی وجوہات میں اختلاف ضرور ہو سکتا ہے کیونکہ کچھ مفکرین کا یہ خیال ہے کہ روایت پسندی بھی انسانی ماحول سے آتی ہے، مگر اس کے مدمقابل کچھ کا خیال ہے کہ یہ ایک فطری نعمت ہے جو انسان کو پیدائش کے ساتھ ملتی ہے ۔
اب آتے ہیں ان لوگوں کی طرف جو مادہ پرستی پر یقین رکھتے ہیں، اس میں دورائے نہیں ہونی چاہیے کہ مادہ پرستی کا اصل سبب ماحولیات ہے، اس کی سادہ مثال دس یا بیس سال پہلے ملتی ہے جب سرمایہ دارانہ نظام صرف معاشی ترقی تک محدود تھا تو انسان خواہشات کے بوجھ سے کسی حد تک آزاد تھا ، لیکن جب سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے فروغ کے لیے سوشل میڈیا جیسے آلات کو اپنایا تو اس نے انسان کی ذہنی آزادی چھین کر اسے مسلسل مقابلے اور مادی دوڑ میں ڈال دیا، آج مادہ پرستی ہر انسان کے روح میں حرکت کر رہی ہے، ہم پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو سے اپنے سکون کو برباد کر رہے ہیں، ہر شخص دوسرے کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہے اور یہی مقابلہ انسان کے اخلاقی اور روحانی اقدار کو روند رہا ہے ۔
ہم جو ترقی پذیر دنیا میں رہتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی لوگ حقیقی زندگی زیادہ بہتر گزار رہے ہیں، بظاہر یہ سچ لگتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ذہنی تناؤ وہاں بھی اتنا ہی ہے، فرق صرف یہ کہ انہوں نے مادی ترقی کو اپنے ماتحت رکھا ہوا ہے جبکہ ہم اس کے غلام بن چکے ہیں، اس نظام کی بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ ہمیں ہر چیز دکھاتا تو ہے مگر اسے حاصل کرنے کے ذرائع نہیں دیتا ۔
سوشل میڈیا اکیسویں صدی کی ایجاد ہے جبکہ ہمارے خطے میں جمہوریت اور جدید طرز زندگی کا سفر ابھی بہت نیا ہے، یورپ نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے صدیوں کی جنگیں، انقلابات اور نظریاتی کشمکش دیکھی، جبکہ ایشیائی اور افریقی ممالک کو آزادی ملے ابھی سو سال بھی نہیں ہوئے، یہی وجہ ہے کہ جدیدیت نے ہمیں فائدے سے زیادہ نقصان پہنچایا، وہاں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے اصول اور ضابطے ہیں، جبکہ ہم ابھی تک انہی اصولوں کی تلاش میں ہیں ۔
اس لیے اس جدیدیت اور ذہنی تناؤ کیلئے کچھ ضروری کاوشیں لازم ہیں:
پہلا، انسان کو اپنی خواہشات کی حد سمجھنی ہوگی کہ وہ حقیقت میں کیا چاہتا ہے، نہ کہ ماحول اسے کیا دکھا رہا ہے ۔
دوسرا، سوشل میڈیا کو حقیقی زندگی پر سوار نہ کریں، وہاں دکھائی جانے والی زندگی حقیقت نہیں ہوتی، وہ صرف ایک خوبصورت جھلک ہے جس کے پیچھے ہزاروں تلخ حقیقتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، اس لیے کسی کی مختصر ویڈیو کو اپنی پوری زندگی سے موازنہ نہ کریں ۔
حقیقی خوشی نہ تو لامحدود خواہشات میں پوشیدہ ہے اور نہ ہی سرمایہ دارانہ ترقی کے شور میں، سکون اس وقت ملتا ہے جب انسان اپنی فطرت کو پہچان کر زندگی کے اصل اصولوں کے مطابق چلتا ہے، جدیدیت اور ٹیکنالوجی ہمارے لیے آسانی بھی ہیں اور آزمائش بھی، اگر ہم خواہشات کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں اور سوشل میڈیا کی بنائی ہوئی مصنوعی دنیا سے فریب نہ کھائیں تو یقینی طور پر ہم ایک زیادہ پُرسکون، حقیقت پسند اور بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں ۔ لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی روحانی، اخلاقی اور انسانی اقدار کو بھی زندہ رکھیں، یہی توازن ہی اصل زندگی اور ابدی سکون کا راز ہے ۔

