پشاور (حسن علی شاہ) ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد پاکستان کے ثالثی کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے باعث مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے متعدد ممالک میں معاشی اور توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھا، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی اثرات دیکھے گئے۔
اسی دوران مختلف ممالک میں جنگ مخالف مظاہروں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے بعد سعودی عرب، چین، مصر، ترکی اور امریکہ نے پاکستان کے ذریعے سفارتی مذاکرات کی حمایت کی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریقین کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ پاکستانی قیادت نے اس عمل میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا، جس میں وزیراعظم، وزیر خارجہ اور عسکری قیادت کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے کئی گھنٹوں پر مشتمل دور میں نمایاں پیش رفت ہوئی، جس کے بعد امریکی وفد نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ مرحلے میں مزید بہتری آئے گی۔
تاہم بعض دعوؤں کی سرکاری سطح پر آزاد تصدیق موجود نہیں، اس لیے ان پیش رفتوں کو ابتدائی اور سفارتی ذرائع سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور فریقین کے درمیان بات چیت جاری رہنے کی توقع ہے۔
پاکستان کے کردار کو خطے میں امن کے لیے ایک مثبت سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا بتایا جا رہا ہے۔

