سوات کے سیلاب متاثرین ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے اور منتخب عوامی نمائندگان کے خلاف شدید نعرہ بازی کی، نشاط چوک میں سیلاب متاثرین کے ہمراہ مقامی تاجروں نے احتجاجی جلسہ میں شرکت کی اور منتخب ایم پی ایز و ایم این ایز کو آڑھے ہاتھوں لیا ۔
احتجاجی جلسہ میں سیلاب متاثرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر حکومتی نمائندوں کے خلاف نعرے درج تھے ۔
تاجر برادری کے عہدیداروں نے کہا کہ آٹھ ماہ ہو گئے اور سوات کے ہزاروں سیلاب متاثرین کو تا حال اعلان کی گئی امدادی رقم نہیں ملی ۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندوں نے بار بار وعدے کئے کہ متاثرین کو صوبائی حکومت کی جانب سے امدادی رقم دی جائے گی جس کی منظوری بھی وزیراعلی دے چکے ہیں لیکن تا حال کسی قسم کی شنوائی نا ہو سکی” ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک بار سیلاب متاثرین کا ڈیٹا اکھٹا کرلیا گیا ہے جبکہ اب دوبارہ ڈیجیٹلائزیشن کا بہانہ بنا کر متاثرین کو ٹھرخایا جا رہا ہے جبکہ عملی طور پر متاثرین کو امداد نہیں دی جا رہی ۔
جلسہ میں شریک متاثرین نے کہا نے کہا کہ سیلاب میں ان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ حکومت نے فی دکان پانچ لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود فراہم نہیں کیا گیا ۔
سیلاب متاثرین نے احتجاج کے بعد ڈپٹی کمشنر سوات کے دفتر میں دھرنا دیا اور مطالبات کے لئے نعرہ بازی کی، اس دوران ڈی سی سوات سلیم جان نے متاثرین کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کا دیٹا ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے اور 15 دن کے اندر ڈیٹا کا عمل مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد امید ہے کہ امدادی رقم کی فراہمی شروع ہوجائے ۔

