اسلام آباد: وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے "سولر شفٹ روکنے کے لیے نئے پاور ٹیرف” سے متعلق خبروں کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی کے فکسڈ چارجز میں اضافے یا سولر توانائی استعمال کرنے والی صنعتوں کو سزا دینے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔
پاور ڈویژن کے جاری کردہ بیان کے مطابق بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت کم بجلی استعمال کرنے یا سولر توانائی اختیار کرنے والی صنعتوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جائے گا، تاہم وزارتِ توانائی نے اس تاثر کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ زیرِ غور ٹیرف نظام صرف ایک اختیاری متبادل ہے، جس میں نسبتاً زیادہ فکسڈ چارجز کے ساتھ مختلف اوقات میں کم بجلی نرخ رکھنے کی تجویز شامل ہے، تاکہ صنعتی صارفین اپنی ضروریات اور بجلی کے استعمال کے انداز کے مطابق بہتر آپشن کا انتخاب کر سکیں۔
وزارتِ توانائی کے مطابق صنعتی صارفین کو مکمل آزادی حاصل ہوگی کہ وہ نئے متبادل ٹیرف کو اختیار کریں یا موجودہ ٹیرف نظام پر برقرار رہیں۔ کسی بھی صارف کو نئے نظام پر منتقل ہونے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔
پاور ڈویژن نے مزید کہا کہ یہ متبادل ٹیرف خاص طور پر اُن صنعتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جو چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں اور مسلسل بجلی استعمال کرتی ہیں، کیونکہ اس سے ان کی بجلی کی لاگت زیادہ مستحکم اور قابلِ پیشگوئی بن سکتی ہے۔

