اسلام آباد: سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ معاملات کے حل کے لیے طویل عرصے تک سفارتی رابطوں، مذاکرات اور باضابطہ بات چیت کو ترجیح دی، تاہم افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی سہولت کاری، پناہ گاہوں اور سرپرستی ختم نہ کرنے کے باعث پاکستان کی قومی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دورِ حاضر میں افغانستان اور دہشت گردی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں، کیونکہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس پاکستان کے عوام، سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے بنیادی مطالبہ واضح اور اصولی ہے: افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے، دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کی جائیں اور دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری بند کی جائے۔
ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 32092 آپریشنز
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق رواں سال ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کی سرکوبی کے لیے مجموعی طور پر 32092 آپریشنز کیے۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور تعاون سے دہشت گردی کے 2170 واقعات ہوئے، جن میں 1861 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ارضِ پاک کے 640 بہادر سپوتوں نے دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پنپنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس پاکستان کی قومی سلامتی، داخلی امن اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
پاکستان کا مطالبہ: دہشت گردی کی سرپرستی فوری بند کی جائے
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کے ساتھ پاکستان کا سفارتی رابطہ مکمل طور پر شفاف، باضابطہ اور ایک بنیادی مطالبے پر مبنی ہے کہ دہشت گردی کی سرپرستی فوری طور پر بند کی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 2021 سے 2025 تک موجودہ افغان رجیم کے ساتھ کثیر الجہتی مذاکرات کیے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے مسائل کا حل طاقت کے بجائے بات چیت، سفارت کاری اور علاقائی تعاون کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان طالبان رجیم نے دہشت گردی کی سرپرستی اور افغان سرزمین کے پاکستان مخالف استعمال کو روکنے میں ہمیشہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑے۔
سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حدود میں کیے جانے والے تمام فضائی و عسکری حملے انتہائی درستگی، محتاط منصوبہ بندی اور ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیے گئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے حالیہ سرحد پار کارروائیوں کو دہشت گرد ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور اسلحہ ذخائر کے خلاف کارروائی قرار دیا، جبکہ افغان طالبان نے شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کیا۔ Reuters نے دونوں فریقین کے مؤقف کو رپورٹ کیا ہے، تاہم شہری ہلاکتوں کے دعووں کی آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں دستیاب نہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ریاست کو اپنی سرحدوں، عوام اور سیکیورٹی فورسز کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بین الاقوامی قوانین، قومی سلامتی اور مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔
فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان قومی سلامتی کے لیے خطرہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی جنگ کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پنپنے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان پاکستان کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی، ریاستی اداروں پر حملوں، عوامی مقامات کو نشانہ بنانے اور بدامنی پھیلانے میں ملوث ہیں۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی پابندیوں کی فہرست میں تحریک طالبان پاکستان، یعنی ٹی ٹی پی، کو ایک دہشت گرد entity کے طور پر listed کیا گیا ہے، جبکہ اس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ یہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی پٹی سے جڑی تنظیم ہے۔
پاکستان نے مذاکرات کو ترجیح دی، مگر افغان رجیم نے سنجیدگی نہ دکھائی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں میں افغان طالبان رجیم سے مسلسل رابطے کیے۔ مقصد یہ تھا کہ افغانستان سے دہشت گردی، سرحد پار حملوں اور دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہوں کا مسئلہ پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے بارہا واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات برادرانہ، پرامن اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھائے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان طالبان رجیم کا غیر ذمہ دارانہ اور پرتشدد رویہ کسی بھی بامعنی سفارتی یا باہمی رابطے کو مشکل بناتا رہا۔ اس کے باوجود پاکستان نے دروازے بند نہیں کیے اور علاقائی امن کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنایا۔
وزارتِ خارجہ پاکستان کے بیانات کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان ترکیہ اور قطر کی ثالثی سے مذاکرات بھی ہوئے، جن کا مقصد پیچیدہ مسائل کا مثبت حل تلاش کرنا تھا۔
طالبان رجیم کا انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ بھی باعثِ تشویش
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم انسانی حقوق، خصوصاً خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے قابلِ قبول طرزِ عمل اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اقوام متحدہ، UNAMA اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں، تعلیم، روزگار، نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شمولیت پر سخت قدغنوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ Human Rights Watch کے مطابق افغانستان میں طالبان حکام نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر پابندیاں مزید سخت کیں، جبکہ خواتین کو تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت میں سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
Reuters کے مطابق اقوام متحدہ نے حالیہ دنوں میں بھی طالبان حکام کی جانب سے خواتین کے خلاف کارروائیوں اور پابندیوں پر تشویش ظاہر کی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ایک ایسی رجیم جو اپنی ہی آبادی کے بنیادی حقوق کے احترام میں ناکام ہو، اس سے علاقائی سلامتی، ذمہ دار ریاستی طرزِ عمل اور انسدادِ دہشت گردی میں سنجیدگی کی توقع محدود رہ جاتی ہے۔
پاکستان کا واضح پیغام
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ وہ افغانستان میں امن، استحکام اور عوامی خوشحالی کا خواہاں ہے، لیکن پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی، سرحد پار حملوں اور افغان سرزمین کے پاکستان مخالف استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ہر ممکن حد تک صبر، تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔ تاہم جب دہشت گردی کا سلسلہ نہ رکا، جب پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنایا گیا، اور جب افغان طالبان رجیم نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کی، تو پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ ملک بھر میں جاری آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی سرپرستوں کو پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔
قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
حکومتی و سیکیورٹی مؤقف کے مطابق پاکستان افغانستان کے عوام کو اپنا برادر سمجھتا ہے، لیکن افغان طالبان رجیم کی پالیسیوں، دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہوں اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کا پیغام واضح ہے:
دہشت گردی کی سرپرستی بند کی جائے۔
افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکا جائے۔
پاکستان کے عوام، سرحدوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
بصورت دیگر پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے چکا ہے اور اب بھی دے رہا ہے، لیکن ریاست کا عزم غیر متزلزل ہے۔ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، مگر دہشت گردی کے سامنے خاموش نہیں رہے گا۔

