مصر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے چوتھے مشاورتی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا،اعلامیے کے مطابق ممکنہ تنازع علاقائی سلامتی، عالمی سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا تھا ۔
قاہرہ: اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور مشرق وسطیٰ سمیت وسیع تر خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مشاورت اور باہمی ہم آہنگی کو انتہائی اہم قرار دیا ۔
اِسی طرح مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے لیے پیش کیے گئے ویژن کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ یہ خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔
وزرائے خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیا ۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ممکنہ تنازع علاقائی سلامتی، عالمی سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا تھا ۔
وزرائے خارجہ نے مفاہمت کو ممکن بنانے میں علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کی کوششوں کو سراہا اور متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں پر مکمل اور دیانتداری سے عمل درآمد یقینی بنائیں ۔
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس تاریخی پیش رفت میں پاکستان کے کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جبکہ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں قطر کی معاونت کو بھی سراہا ۔
اعلامیے میں مذاکرات کے اگلے مرحلے کو جلد اور کامیابی سے مکمل کرنے اور باقی ماندہ مسائل کا پائیدار اور تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور فلسطینی کاز منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کی کوششوں کا مرکز ہے ۔

