قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اتوار کے روز بھی جاری رہا، اس دوران مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے 43 کھرب 85 ارب سے زائد کے 88 مطالبات زرکی منظوری دے دی گئی، اس دوران اپوزیشن کی 90 کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مستردکر دی گئیں ۔
اسلام آباد: سپیکرایاز صادق کی زیرصدارت اتوار کو بھی قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری رہا، متعدد وزارتوں اور ڈویژنوں کے 43 کھرب 85 ارب سے زائد کے 88 مطالبات زرکی منظوری دی گئی، مطالبات زر پر اپوزیشن کی 90 کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مستردکر دی گئیں ۔
دفاع اوردفاعی پیداوارکے 30کھرب 69 ارب 35 کروڑ کے7 مطالبات، مواصلات کے لیے 125 ارب 72 کروڑ 36 لاکھ روپے کےمطالبات زرمنظور کیے گئے ۔
کابینہ سیکرٹریٹ کے 35 ارب 38 کروڑ 69 لاکھ کے 10مطالبات زر، تعلیم کے 192 ارب 70 کروڑاور آبی وسائل کے 107 ارب 32 کروڑ سے زائد کےمطالبات زر منظور ہوئے ۔
خارجہ امورکیلئے 68 ارب 17 کروڑ، صحت کے لیے 53 ارب 28کروڑ، آئی ٹی کے 42 ارب 7 کروڑ، منصوبہ بندی ڈویژن کے 37 ارب 21 کروڑ کے مطالبات زرکی منظوری دی گئی ۔
صنعت و پیداوار کےلیے 29 ارب 53 کروڑ 96 لاکھ،اطلاعات و نشریات کےلیے 27 ارب 57 کروڑ 13 لاکھ، تجارت کے لیے 27 ارب 99کروڑ، قانون و انصاف کے لیے 24 ارب 91 کروڑروپے کے مطالبات زرمنظور ہوئے ۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 19 ارب 54 کروڑ، اقتصادی امور کے لیے 15 ارب ایک کروڑ اور ریلوے کے 111 ارب 13 کروڑ کے مطالبات زر شامل کیے گئے ۔
بحری امور کےلیے 4 ارب 12 کروڑ، امورکشمیر و گلگت بلتستان کے لیے 3 ارب 18 کروڑ،سمندر پار پاکستانیوں کے لیے 3 ارب 73 کروڑکے مطالبات زرمنظور ہوئے ۔
مذہبی امور کے 2 ارب 40 کروڑ،پارلیمانی امور کے ایک ارب 20 کروڑ، قومی اسمبلی کیلئے 9 ارب 3 کروڑ اور سینیٹ کیلئے 3 ارب 21 کروڑ کے مطالبات زرکی منظوری دے دی گئی ۔

