پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں افغان دہشت گردوں کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ رواں سال ہونے والے 28 خودکش حملوں میں سے زیادہ تر خودکش بمبار افغان شہری تھے، جبکہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے حالیہ حملوں میں بھی افغان دہشت گرد ملوث تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے رواں سال اب تک مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تصدیق شدہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے اور ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک دہشت گردی کے باعث مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار جبکہ 322 عام شہری شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبرپختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان جبکہ 26 واقعات ملک کے دیگر حصوں میں پیش آئے۔
انہوں نے دہشت گردی کے اعداد و شمار کا گزشتہ سال سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ رواں سال ابھی تقریباً نصف عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے، جبکہ دہشت گردی کی سرپرستی اور سہولت کاری کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا رہی ہیں۔

