پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عبوری حکومت کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے محض دعووں کے بجائے عملی اقدامات اور ان کے ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے ۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے ، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر صرف زبانی دعوے کافی نہیں ہوں گے۔ افغان حکام کو اپنے اقدامات کے قابلِ تصدیق ثبوت فراہم کرنا ہوں گے ۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے افغان عبوری حکومت کے وزیر دفاع کی جانب سے دوطرفہ میکنزم کے قیام کی تجویز نوٹ کرلی ہے اور پاکستان ریاستی سطح پر ادارہ جاتی میکنزم کے قیام کیلئے تیار ہے ۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ مکہ معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی کا فروغ ہے ، جبکہ اجتماعی ذمہ داریوں اور سلامتی کے مشترکہ مقاصد رکھنے والے ممالک کیلئے فورم کھلا ہے۔ پاکستان علاقائی امن و سلامتی کیلئے ادارہ جاتی تعاون کا خواہاں ہے ۔
ایس سی او سے متعلق ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے ایک سال کیلئے تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ وزیراعظم ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے بشکیک کا دورہ کریں گے اور کانفرنس کے موقع پر دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے ۔ پاکستان 2027 میں ایس سی او کانفرنس کی میزبانی کرے گا ۔
ترجمان نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو ایران کا دورہ کیا، جہاں ایرانی حکام سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم نے ترکیہ کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی ۔

