اسلام آباد: وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت آئی ٹی تعلیم اور سکلز اسیسمنٹ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا.
اجلاس میں چیئرمین ایچ ای سی اور وفاقی سیکرٹری تعلیم سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران تعلیمی پروگراموں کے مختلف مراحل پر لازمی اسکلز ٹیسٹ متعارف کرانے کی تجویز پر غور کیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے احد چیمہ نے کہا کہ آئی ٹی تعلیم کا معیار بہتر بنانا اور گریجویٹس کے روزگار کے مواقع بڑھانا اولین ترجیح ہے۔
غیرمنظورشدہ تعلیمی اداروں کو طلبہ کا مستقبل خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
انہوں نے غیر منظور شدہ آئی ٹی اداروں کی نشاندہی کا نظام مزید مضبوط بنانے اور غیر تسلیم شدہ تعلیمی پروگراموں سے متعلق آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کی منظوری کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جامع فریم ورک مرتب کیا جائے گا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ آئی ٹی سکلز اسیسمنٹ ٹیسٹ میں 188 اداروں کے 33 ہزار سے زائد طلبہ شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر نے اسیسمنٹ کے نتائج کی مؤثر نگرانی، جانچ پڑتال اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
احد چیمہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی قابلیت اور عملی مہارتوں کے درمیان فرق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اس لیے جامعات کے نصاب کو آئی ٹی صنعت کی حقیقی ضروریات سے مکمل ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ آئی ٹی تعلیم کو قابلِ روزگار مہارتوں میں تبدیل کیا جا سکے۔

