وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کوہاٹ سی ایم کا دورہ کیا اور پولیس لائز حملے میں زخمی اہلاکروں اور عام شہریوں کی عدالت کی، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ہم تعمیر و ترقی کرتے ہیں جبکہ یہ تباہی کرتے ہیں، سہیل آفریدی ڈیلیور نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں ۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سی ایم ایچ میں زیرِ علاج زخمی جوانوں کا جذبہ دیدنی ہے، فوج اور پولیس کے جوانوں اور افسران نے بہادری سے آپریشن میں حصہ لیا، بزدل دہشت گرد چھپ کر وار کر رہے ہیں، تاہم سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور افسران نے بہادری اور عزم کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ۔
عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب کوہاٹ کا واقعہ پیش آیا تو سہیل آفریدی کہاں تھے؟ ان کے بقول وہ لاہور میں ٹک ٹاک بنا رہے تھے ۔
اُن کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو چاہیے کہ وہ کوہاٹ کے زخمیوں سے ملاقات کریں اور انہیں گلے لگائیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کے پاس دھرنے اور انتشار پھیلانے کا وقت ہے ۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جنید اکبر کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے جب کہ خیبرپختونخوا کو پہلے ہی کھنڈر بنا دیا گیا ہے۔
عطا تارڑ کا خیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم تعمیر و ترقی کرتے ہیں جبکہ یہ تباہی کرتے ہیں، سہیل آفریدی اگر ڈیلیور نہیں کر سکتے تو گھر چلے جائیں۔
اُن نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بتائیں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انہوں نے کیا کیا ہے، پی ٹی آئی حکومت صرف سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگانا جانتی ہے جب کہ ان کی ساری توجہ مائننگ کے ٹھیکوں پر ہے ۔

