وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسئلہ بات چیت سے حل کرنا ہے تو لانگ مارچ کے بجائے مذاکرات پہلے ہی کر لیے جائیں ۔
پشاور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ نشست اور گفتگو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس سات دن کا وقت ہے، اگر وہ مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کر لے، ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ مذاکرات اور باہمی اتفاق سے حل ہو جائے ۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ وفاقی حکومت کو کچھ وقت دیا جائے، جبکہ تاخیر بھی حکمت عملی کا حصہ ہے، اس دفعہ نکلے تو واپس نہیں آئیں گے ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مولانا فضل الرحمان کو بھی دعوت دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر وہ ہمارے پاس آتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے ۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اگر وہ وزارتِ اعلیٰ کی کرسی سے چلے بھی گئے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر مجھے نااہل قرار کیاگیا تو میرا متبادل بانی پی ٹی آئی خود طے کریں گے ،لیکن اپنی نااہلی کے بعد میں مزید خطرناک ہو جاوں گا ۔

