Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا
    • سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا
    • کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا
    بلاگ اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا

    Facebook Twitter Email
    The star of Khyber Pakhtunkhwa Police
    شہید ڈی ایس پی عمران الدین خان خیبر پختونخوا پولیس کا وہ روشن ستارہ تھے جس نے موت کو للکارا اور ثابت کیا کہ وطن کی محبت جان سے بڑھ کر ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    خصوصی تحریر: رحیم شامزئی

    تاریخِ اقوام میں بعض نام محض افراد کے نام نہیں رہتے، بلکہ وہ حوصلے، ایثار اور بے خوفی کی ایسی روشن علامتیں بن جاتے ہیں جو پوری نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتی ہے، شہید ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین کا نام بھی ایسے ہی ناموں میں شمار ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر اس سرزمین کے امن کی حفاظت کی اور دہشت گردی کے خلاف محاذ پر ثابت قدمی کی ایسی مثال قائم کی جسے وقت کے صفحے ہمیشہ سنہری حروف میں محفوظ رکھیں گے، وہ خیبر پختونخوا پولیس کا وہ روشن ستارہ تھے جس نے موت کو للکارا اور ثابت کیا کہ وطن کی محبت جان سے بڑھ کر ہے ۔

    عمران الدین کوئی عام افسر نہیں تھے، وہ ان بہادر سپاہیوں میں سے تھے جنہوں نے ہنگو اور کرک جیسے خطرناک علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں خود کو منوایا، انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف مستقل طور پر محاذ پر لڑے، ان کی بہادری کا عالم یہ تھا کہ وہ ماضی میں بھی متعدد حملوں میں بال بال بچے، مگر دشمن کی دھمکیاں ان کے حوصلے کو پست نہ کر سکیں، کوہاٹ دھماکے کے بعد انہوں نے سرچ آپریشن میں بھرپور حصہ لیا اور ثابت کیا کہ وہ عوام کے تحفظ کے لیے کس حد تک جانے کو تیار ہیں ۔

    عمران الدین کا سب سے نمایاں وصف ان کا وہ عزم تھا جو وہ ہر محاذ پر دہراتے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے پہلے کوئی نہیں مر سکتا، اسی لیے ہمیں بزدل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بلا خوف ملک دشمن عناصر کا خاتمہ کرنا ہے اور ان کے خلاف لڑنا ہے ۔

    عمران الدرین شہید کے یہ الفاظ محض زبان کی بات نہیں تھے، بلکہ ان کی پوری زندگی انہی الفاظ کی عملی تصویر تھی، وہ خطرے سے بھاگنے والے افسر نہیں، بلکہ خطرے کو للکارنے والے سپاہی تھے، ان کے ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے دستے سے آگے چل کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور ہر خطرے کا سامنا خود کرتے، ان کی قیادت کا یہی انداز انہیں عام افسروں سے ممتاز کرتا تھا، وہ واقعی ایک سپہ سالار تھے، جن کے لیے اپنے جوانوں کی حفاظت اور وطن کی سلامتی سب سے مقدم تھی ۔

    وہ ایک ایسی دلیر ماں کا بیٹا تھا جس نے اسے وطن کی محبت اور بے خوفی کا دودھ پلایا، ایسے افسران پاکستان میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں جو اپنے فرض کے آگے اپنی جان کو ہلکا سمجھیں، عمران الدین کی شہادت کا مرتبہ بلند ہے، مگر ایسے بہادر افسر کا جانا یقیناً ایک بہت بڑا نقصان ہے، یہ وہ خلا ہے جسے نہ کوئی عہدہ پُر کر سکتا ہے اور نہ کوئی اور ۔

    جب کرک کے علاقے چرپیرا میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی، تو عمران الدین نے اپنی ٹیم کے ساتھ پہلے صف میں کھڑے ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا، پولیس کے مطابق انہوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، ان کے ساتھ سب انسپکٹر افضل اعوان، حوالدار کاظم اور ہیڈ کانسٹیبل امجد بھی شہید ہوئے، ان تمام بہادر اہلکاروں نے اپنی جانوں کے نذرانہ سے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان پولیس کے جوان اپنے فرائض اور عوام کے تحفظ کے لیے کس قدر پُرعزم ہیں ۔

    ان کی شہادت پر ہر طرف سے خراجِ تحسین کا اظہار کیا گیا، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی قربانی کے ذریعے سب سے اعلیٰ اعزاز حاصل کیا، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ ان کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن و امان کے قیام کے لیے فورس کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں ۔

    سوشل میڈیا پر بھی ان کی بہادری کے قصے گونجتے رہے، لوگوں نے انہیں بہادر پولیس افسر اور دلیر افسر قرار دیا، اور ان کی قربانی کو سلام پیش کیا، کئی صارفین نے لکھا کہ انہوں نے لازوال قربانیوں کے ساتھ پولیس فورس میں بہادری کی ایک نئی مثال قائم کی ہے ۔

    عمران الدین کی بہادری کی داستان کوئی ڈھکی چھپی کہانی نہیں، یہ اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت تھی ہے اور رہے گی، ان کی ویڈیوز، ان کے بیانات اور ان کے ساتھیوں کی شہادتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے لیے پاکستان سب سے بڑھ کر تھا، ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ وطن کی محبت میں سرشار تھے ۔

    اسی لیے ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شہید ڈی ایس پی عمران الدین کو ان کی بہادری، قربانی اور دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کی بنیاد پر اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا جائے، یہ نہ صرف ان کی شہادت کا حق ہے، بلکہ ان کے لواحقین اور ان تمام بہادر اہلکاروں کے لیے ایک پیغام ہے جو اس ملک کے امن کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، ان کی بہادری کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے ۔

    عمران الدین کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے بے خوف ہونا ضروری ہے، ان کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی، ہم سب کا فرض ہے کہ ان کے خوابوں کا پاکستان بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور دہشت گردی کے خلاف ان کے مشن کو آگے بڑھائیں ۔

    اللہ تعالیٰ جاں بحق پولیس افسر ڈی ایس پی عمران الدین اور ان کے ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔ آمین ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا
    webdesk

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا پولیس کا وہ ستارہ جس نے موت کو للکارا

    اکتوبر 22, 2026

    سہ فریقی ون ڈے سیریز، سری لنکا نے انگلینڈ کا 429 رنز کا ہدف پورا کرکے ناممکن کو ممکن بنادیا

    اکتوبر 22, 2026

    کرک میں سی ٹی ڈی کے سرچ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک، مقابلے کے دوران ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

    اکتوبر 22, 2026

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.