Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جنوری 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    • صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے
    • بیرون ملک مقیم معروف ڈاکٹروں کے پرائویٹ کلینکس میں سادہ لوح مریضوں کو دھوکہ دیکر لوٹا جانے کا انکشاف۔۔۔
    • امریکہ نے پشتونوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کیا ھمارے مشران کے قتل اور ٹقافت کو ختم کرنے کیلئے ھرحربہ ازمایا۔۔ جمال شاہ۔۔
    • امجدخان کو فلم ۔۔شعلے۔میں گبرسنگھ کا کردار کیسے اور کیوں افر کیا گیا۔۔۔۔۔؟
    • خیبرٹیلی ویژن کی ترقی کی داستان قمرزمان ( سکواش چمپئن ) کی زبان)
    • بختاور قیوم اور احمد شیر کا سوشل جنکشن دیکھئے ڈیجیٹل کی دنیا میں کےٹو اسلام آباد سے براہ راست۔۔۔۔
    • سیاسی سماجی اور خیبرپختونخواہ کے اصل حالات حاضرہ کی مستند اور حقیقی صورتحال کا مرکز خیبر نیوز پشاورکا( Cross Talk )
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ابابیل فورس،اہلِ پشاور پر ابابیل بن کر ٹوٹ پڑی ہے۔۔۔
    بلاگ

    ابابیل فورس،اہلِ پشاور پر ابابیل بن کر ٹوٹ پڑی ہے۔۔۔

    اکتوبر 30, 2025Updated:اکتوبر 30, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Ababeel Force, turned into Ababeel
    اور جب واقعی یہ سڑکوں پر آئی… تو ہم نے خود کو ہالی ووڈ کی کسی ہارر فلم کے سین میں پایا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    آفاقیات

    پشاور سے رشید آفاق کی خصوصی تحریر: ۔

    جب میں دبئی میں تھا تو اکثر شام کے وقت سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے مزدور طبقے کے جوانوں کو دیکھا کرتا تھا، جو بالوں میں سرسوں کا تیل لگاکر، مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے، گریبان کے بٹن کھول کر اور شلوار کے پائنچے ٹخنوں تک چڑھاکر نائٹ کلبوں کی طرف ایسے متکبرانہ انداز میں اہستہ اہستہ قدم اٹھاتے جاتے تھے جیسے کوئی بلڈوزر کسی فلم کے سین میں سلو موشن میں جا رہا ہو؟
    میں آہستہ سے ان کے قریب سے گزرتا اور کہتا:دا دبئی خرسوے نا؟(دبئی تو بیچنے کا ارادہ نہیں ہے ناں؟)
    اسی طرح وزیرستان میں ہمارا ایک دوست تھا، نام تھا امیراللہ،ہم تین چار دوست تھے جو آپس میں گپ شپ لگاکر زندگی کو آہستہ آہستہ آگے دھکیل رہے تھے،اس دوران امیراللہ نے میڈیسن کا کاروبار شروع کیا، کئی معروف کمپنیوں کی ایجنسیاں لیں،دیکھتے ہی دیکھتے اُس کا کاروبار پہلے بنوں، پھر سیدھا اسلام آباد تک پہنچ گیا،امیراللہ کے حالات بدلے، گفتگو کا انداز بدل گیا،
    کبھی کبھار اسلام آباد سے ہمیں یاد (یا ذلیل) کرنے کے لیے فون کرتا،فون پر موصوف یوں نوابی انداز میں بات شروع کرتے،
    امیراللہ خان صاحب، اسلام آباد سے بات کر رہا ہوں،
    یعنی خود کو صاحب کہتے اور ساتھ یہ تاثر دیتے کہ ہم عام لوگ ہیں،رفتہ رفتہ اُس نے خود کو نوابوں میں اور ہمیں کمی کمینوں میں شمار کرنا شروع کر دیا،
    مرحوم سابق آئی جی ناصر درانی کو اللہ بخشے موصوف نے کے پی پولیس میں واقعی تبدیلی لائی تھی، جو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے،وہ اکثر کہا کرتے تھے،
    میں ایک ایسی فورس تیار کر رہا ہوں کہ جب وہ پشاور کی سڑکوں پر نکلے گی تو لوگ خود کو کسی ہالی ووڈ فلم کے سین میں محسوس کریں گے
    تب ہم سوچتے تھے: کاش یہ فورس جلدی میدان میں آئے،
    اور جب واقعی یہ سڑکوں پر آئی… تو ہم نے خود کو ہالی ووڈ کی کسی ہارر فلم کے سین میں پایا!
    ایک تو اس ابابیل فورس میں زیادہ تر نہیں بلکہ تقریباً تمام اہلکار دور دراز اضلاع سے لائے گئے ہیں (جن میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے اپنے علاقے سے سب سے زیادہ لوگ بھرتی کرائے تاکہ وہاں نئی بھرتیاں ہو سکیں)
    زیادہ تر اہلکار بنوں، ڈی آئی خان، سوات اور شانگلہ جیسے علاقوں سے آئے، جو پشاور پہنچ کر وہی سرائیکی سٹائل اور امیراللہ خان والا غرور ساتھ لائے ہیں، اور اب روزانہ اہلِ پشاور پر اپنی مہمان نوازی کا مظاہرہ فرما رہے ہیں،

    انہیں نہ اہلِ پشاور کے مزاح اور طرزِ گفتگو کا علم ہے، نہ رسم و رواج کا، بلکہ اکثر کو تو شہر کے مقامات کا پتہ تک نہیں،
    زیادہ تر کا تجربہ صرف اتنا ہے کہ دیہات میں کسی راہ چلتے بندے سے “چائے پانی” لیکر معاملہ ختم کر دیتے تھے کیونکہ وہاں کسی کی پہنچ نہیں ہوتی تھی
    یہ کیپٹل سٹی ہے
    یہاں آئی جی، ڈی آئی جیز، سی سی پی او، ایس ایس پی آپریشنز، درجنوں ایس پیز، وزیراعلیٰ، گورنر، ایم این ایز، ایم پی ایز اور وزراء ہر موڑ پر نظر آتے ہیں
    تو جب یہ اہلکار پشاور میں وہی دیہی انداز اپناتے ہیں، تو شکایت فوراً اعلیٰ افسران تک پہنچ جاتی ہے اور ان کی ساری “کارکردگی” دھری کی دھری رہ جاتی ہے ۔

    گزشتہ سال میرے ایک رشتہ دار سے راہ چلتے ابابیل فورس کے چار جوانوں نے ستر ہزار روپے لیے
    انہوں نے متاثرہ نوجوان سے پیسے اور فون لیکر کہا کہ ہم تمہیں فون کریں گے ،
    متاثرہ شخص میرے پاس آیا میں نے متعلقہ ڈی ایس پی سے رابطہ کیا،
    موصوف نے پوچھا: “جن چار اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھا رہے ہیں کہ انہوں نے پیسے نہیں لیے، کیا یہ لڑکا جھوٹ تو نہیں بول رہاہے؟
    میں نے کہا: “جناب، ذرا سوچئے،اگر یہ جھوٹ بول رہا ہوتا تو رات گیارہ بجے مختلف تھانوں کے چکر کیوں لگاتا؟اور رات گئے ابابیل فورس کے ان جوانوان کی نشاندہی کرتا،
    اور پھر اسی رات وہ ستر ہزار روپے ان چار اہلکاروں سے واپس لے کر متاثرہ شخص کو دے دیے گئے۔
    ڈی ایس پی صاحب نے بتایا کہ “اہلکاروں نے پیسے آپس میں انصاف کے ساتھ برابر تقسیم کیے تھے!

    قانونی طور پر ناکہ صرف ایک اے ایس آئی اور اس کے ماتحت اہلکار لگا سکتے ہیں،
    لیکن ابابیل والے جہاں چاہیں، چار کانسٹیبل موٹرسائیکل سے اتر کر “محفلِ جمال” سجا لیتے ہیں ۔
    افسر نہ ہونے کے باعث ایک دوسرے کو “جناب جناب” کہہ کر شکار کو پکڑنے کی حکمت عملی طے کرتے ہیں،

    پشاور میں سنیچرز نے جو اودھم مچایا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔
    روز کسی نہ کسی تھانے کی حدود میں مقامی ایس ایچ او خود سنیچرز سے مقابلہ کرکے اُنہیں “فل یا ہاف فرائی” بنا دیتا ہے ۔
    لیکن آج تک ہم نے نہیں دیکھا، نہ کوئی خبر آئی،  کہ ابابیل کے شیر جوانوں نے کسی سنیچر کو پکڑا ہو! ان میں زیادہ تر تو بازاروں میں گرمیوں میں بھی دکانداروں سے مچھلی فرائی کھاتے ہیں کونکہ بنوں، ڈی آئی خان میں مچھلی کھانا بھی نوابوں کی خواراک ہے ،اگر کسی کو پکڑے تو کسی سے بات کرنا گوارہ نہیں کرتے اور آپس میں ایک دوسرے سے آئی جی کے سٹائل میں بات کرتے ہیں،سٹائل ایسا کہ ہر دوسرا جوان پشتو فلموں کا شاہدخان لگتاہے،جیبوں میں کنگھی،نسوار اور مسواک رکھنے کو ہی ثواب عظیم سمجھتے ہیں،باقی صغیرہ وکیبرہ گناہوں کی کتاب کو شائد پہنچے نہیں،موٹرسائیکلوں کی سائڈ مرر جو جتنا خود کو ایک گھنٹے میں دیکھتے ہیں شائد کہ گل پانڑہ پورے ہفتے میں خود کو اتنا دیکھتی ہو،

    یہ حضرات سڑکوں پر شہریوں کے لائسنس، گاڑی کے کاغذات اور ہیلمٹ کے ساتھ ساتھ جیبوں پر بھی ایسے ہاتھ مارتے ہیں جیسے کوئی جاگیردار اپنی جاگیر میں سیر کر رہا ہو۔

    خدارا! اس شہر پر رحم کریں ۔
    ان “شیر جوانوں” سے اہلِ پشاور کو محفوظ کیا جائے۔
    یہ اب شترِ بےمہار بن چکے ہیں ۔

    ٹریفک پولیس اگر کسی شہری کو ہیلمٹ نہ پہننے پر 1020 روپے جرمانہ کرتی ہے تو یہ خود بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائیکلوں پر ایسے پھرتے ہیں جیسے شہر ابھی ابھی فتح کیا ہو!
    کیا اس سے عام شہری یہ نہیں سوچتا کہ “کیا ابابیل والے درد پروف ہیں؟ موت کو بیچ دیا ہے؟ یا واقعی آسمان سے اترے ہیں؟”

    ان لوگوں کو کوئی سمجھائے کہ اس شہر میں کوئی ابراہہ نامی کافر موجود نہیں،
    لہٰذا حقیقی ابابیل بن کر نازل ہونے کی ضرورت نہیں ہے،
    باقی سب خیر خیریت ہے،
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو !

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکرم میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، پاک فوج کے کیپٹن سمیت 6 جوان شہید
    Next Article ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے افغان طالبان کیساتھ دوبارہ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    جنوری 22, 2026

    پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟

    جنوری 21, 2026

    افغانستان: زوال کی ایک اور داستان

    جنوری 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    جنوری 22, 2026

    صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے

    جنوری 22, 2026

    بیرون ملک مقیم معروف ڈاکٹروں کے پرائویٹ کلینکس میں سادہ لوح مریضوں کو دھوکہ دیکر لوٹا جانے کا انکشاف۔۔۔

    جنوری 22, 2026

    امریکہ نے پشتونوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کیا ھمارے مشران کے قتل اور ٹقافت کو ختم کرنے کیلئے ھرحربہ ازمایا۔۔ جمال شاہ۔۔

    جنوری 22, 2026

    امجدخان کو فلم ۔۔شعلے۔میں گبرسنگھ کا کردار کیسے اور کیوں افر کیا گیا۔۔۔۔۔؟

    جنوری 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.