Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, مارچ 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55، 55 روپے فی لیٹر بڑا اضافہ
    • کوالیفائر میں جاپان کو شکست دیکر پاکستان ہاکی ٹیم نے 8 سال بعد ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرلیا
    • وزیراعظم کی صوبوں کو پیٹرولیم ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت
    • پولیس کی بروقت کارروائی، بنوں شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا
    • آپریشن غضب للحق: 527 دہشتگرد ہلاک، 237 پوسٹیں تباہ کر دیں، عطا تارڑ
    • پشاور میں خودمختار ساوی کے زیر اہتمام غریبوں کے لیے افطار ڈنر
    • افغان طالبان کو دہشت گردی کی سرپرستی ختم کرنا ہوگی، پاکستان کا دوٹوک مؤقف: ڈی جی آئی ایس پی آر
    • پاک افغان سرحد پر کشیدگی، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں صرف عسکری اہداف تک محدود رہیں: سیکیورٹی ذرائع
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » باجوڑ حملہ، سفارتی احتجاج اور پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ۔۔۔۔
    بلاگ

    باجوڑ حملہ، سفارتی احتجاج اور پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ۔۔۔۔

    فروری 19, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Bajaur attack, diplomatic protest and a new turn in Pak-Afghan relations
    دلچسپ امر یہ ہے کہ کشیدگی سے قبل دونوں ممالک کے درمیان حالات میں بہتری کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    حالیہ دنوں باجوڑ میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، حملے میں جانی نقصان پر پاکستان نے افغان عبوری حکومت کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج کیا گیا، ساتھ ہی یہ واضح پیغام دیا گیا کہ کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کو جہاں بھی پایا گیا، ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے ۔

    سیکیورٹی خدشات اور سخت مؤقف: ۔
    پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ سرحد پار موجود عناصر پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، ماضی میں بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے ایسے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں افغان سرزمین سے سہولت ملتی ہے، جس کی کابل حکومت تردید کرتی رہی ہے، باجوڑ واقعے کے بعد اسلام آباد کا لہجہ مزید سخت دکھائی دے رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سیکیورٹی معاملات پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی ۔

    مثبت پیش رفت اور ثالثی کی کوششیں: ۔
    دلچسپ امر یہ ہے کہ کشیدگی سے قبل دونوں ممالک کے درمیان حالات میں بہتری کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں، رمضان کے مقدس مہینے میں پاک افغان سرحد پر سکون ماحول اور طویل عرصے سے بند سرحدی راستوں کو کھولنے کے حوالے سے بریک تھرو کی امید پیدا ہو رہی تھی ۔

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی ثالثی کے نتیجے میں افغان طالبان کی تحویل میں موجود پاکستان کے تین سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائی ممکن ہوئی، یہ پیش رفت اعتماد سازی کے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی تھی، مزید یہ کہ سعودی حکام دونوں فریقین کے درمیان تجارت کی بحالی اور سرحدی آمدورفت کھولنے کے لیے بھی سرگرم تھے ۔

    سرحدی تجارت اور عوامی اثرات: ۔
    پاک افغان سرحد کی بندش کا سب سے زیادہ اثر سرحدی علاقوں کے عوام اور تاجروں پر پڑتا ہے، طورخم اور چمن جیسے اہم راستوں کی بندش سے روزگار، اشیائے خوردونوش کی ترسیل اور دوطرفہ تجارت متاثر ہوتی ہے، رمضان میں سرحد کھولنے کی اطلاعات نے کاروباری حلقوں میں امید پیدا کی تھی کہ معاشی سرگرمیاں بحال ہوں گی اور دونوں ممالک کے عوام کو ریلیف ملے گا ۔

    بڑھتی کشیدگی کے خدشات: ۔
    تاہم باجوڑ حملے اور اس کے بعد سفارتی سطح پر سخت ردعمل نے ان مثبت پیش رفتوں کو غیر یقینی بنا دیا ہے، افغان ناظم الامور کی طلبی اور سخت وارننگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر سرحد پار دہشت گردی کے واقعات نہ رکے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔

    دوسری جانب، خطے کی مجموعی صورتحال بھی نازک ہے، پاکستان پہلے ہی داخلی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹ رہا ہے، جبکہ افغانستان کی عبوری حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے، ایسے میں کسی بھی نئی کشیدگی کا نقصان دونوں ممالک کو ہو سکتا ہے ۔

    آگے کا راستہ: ۔
    موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت سفارتی رابطوں کے تسلسل اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ کی ہے۔ اگر ثالثی کے ذریعے اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھے جائیں، مشترکہ سیکیورٹی میکانزم فعال کیا جائے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف واضح اور عملی اقدامات ہوں، تو نہ صرف سرحدی تجارت بحال ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کی امید بھی بڑھ سکتی ہے ۔

    باجوڑ واقعہ ایک آزمائش ہے ،یہ دیکھنا ہوگا کہ دونوں ہمسایہ ممالک اسے مزید تصادم کا ذریعہ بناتے ہیں یا اسے سنجیدہ مذاکرات اور عملی تعاون کی طرف ایک موڑ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: زمبابوے نے آسٹریلیا کے بعد سری لنکا کو بھی ہرادیا
    Next Article سیکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کامیاب کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    Fayaz
    • Website

    Related Posts

    ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں اقتصادی و سیاسی بحران، عالمی توجہ پاکستان پر

    مارچ 5, 2026

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55، 55 روپے فی لیٹر بڑا اضافہ

    مارچ 6, 2026

    کوالیفائر میں جاپان کو شکست دیکر پاکستان ہاکی ٹیم نے 8 سال بعد ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرلیا

    مارچ 6, 2026

    وزیراعظم کی صوبوں کو پیٹرولیم ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت

    مارچ 6, 2026

    پولیس کی بروقت کارروائی، بنوں شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا

    مارچ 6, 2026

    آپریشن غضب للحق: 527 دہشتگرد ہلاک، 237 پوسٹیں تباہ کر دیں، عطا تارڑ

    مارچ 6, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.