حالیہ دنوں باجوڑ میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، حملے میں جانی نقصان پر پاکستان نے افغان عبوری حکومت کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج کیا گیا، ساتھ ہی یہ واضح پیغام دیا گیا کہ کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کو جہاں بھی پایا گیا، ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے ۔
سیکیورٹی خدشات اور سخت مؤقف: ۔
پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ سرحد پار موجود عناصر پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، ماضی میں بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے ایسے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں افغان سرزمین سے سہولت ملتی ہے، جس کی کابل حکومت تردید کرتی رہی ہے، باجوڑ واقعے کے بعد اسلام آباد کا لہجہ مزید سخت دکھائی دے رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سیکیورٹی معاملات پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی ۔
مثبت پیش رفت اور ثالثی کی کوششیں: ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ کشیدگی سے قبل دونوں ممالک کے درمیان حالات میں بہتری کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں، رمضان کے مقدس مہینے میں پاک افغان سرحد پر سکون ماحول اور طویل عرصے سے بند سرحدی راستوں کو کھولنے کے حوالے سے بریک تھرو کی امید پیدا ہو رہی تھی ۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی ثالثی کے نتیجے میں افغان طالبان کی تحویل میں موجود پاکستان کے تین سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائی ممکن ہوئی، یہ پیش رفت اعتماد سازی کے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی تھی، مزید یہ کہ سعودی حکام دونوں فریقین کے درمیان تجارت کی بحالی اور سرحدی آمدورفت کھولنے کے لیے بھی سرگرم تھے ۔
سرحدی تجارت اور عوامی اثرات: ۔
پاک افغان سرحد کی بندش کا سب سے زیادہ اثر سرحدی علاقوں کے عوام اور تاجروں پر پڑتا ہے، طورخم اور چمن جیسے اہم راستوں کی بندش سے روزگار، اشیائے خوردونوش کی ترسیل اور دوطرفہ تجارت متاثر ہوتی ہے، رمضان میں سرحد کھولنے کی اطلاعات نے کاروباری حلقوں میں امید پیدا کی تھی کہ معاشی سرگرمیاں بحال ہوں گی اور دونوں ممالک کے عوام کو ریلیف ملے گا ۔
بڑھتی کشیدگی کے خدشات: ۔
تاہم باجوڑ حملے اور اس کے بعد سفارتی سطح پر سخت ردعمل نے ان مثبت پیش رفتوں کو غیر یقینی بنا دیا ہے، افغان ناظم الامور کی طلبی اور سخت وارننگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر سرحد پار دہشت گردی کے واقعات نہ رکے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔
دوسری جانب، خطے کی مجموعی صورتحال بھی نازک ہے، پاکستان پہلے ہی داخلی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹ رہا ہے، جبکہ افغانستان کی عبوری حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے، ایسے میں کسی بھی نئی کشیدگی کا نقصان دونوں ممالک کو ہو سکتا ہے ۔
آگے کا راستہ: ۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت سفارتی رابطوں کے تسلسل اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ کی ہے۔ اگر ثالثی کے ذریعے اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھے جائیں، مشترکہ سیکیورٹی میکانزم فعال کیا جائے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف واضح اور عملی اقدامات ہوں، تو نہ صرف سرحدی تجارت بحال ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کی امید بھی بڑھ سکتی ہے ۔
باجوڑ واقعہ ایک آزمائش ہے ،یہ دیکھنا ہوگا کہ دونوں ہمسایہ ممالک اسے مزید تصادم کا ذریعہ بناتے ہیں یا اسے سنجیدہ مذاکرات اور عملی تعاون کی طرف ایک موڑ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔

