Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اگست 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین
    • وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
    • نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے
    • ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
    • یوم آزادی کی قدر
    • سوات قومی جرگے نے حکومت کو امن کے قیام کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی
    • پاکستانی کوچز ایرانی کرکٹرز کی تربیت کریں گے، دونوں ممالک نے اتفاق کرلیا
    • باجوڑ، سرحدی علاقہ چارمنگ میں بم دھماکہ، 2 خواتین شدید زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بھارت کی سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری کی ناکام کوشش
    بلاگ جون 12, 2025

    بھارت کی سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری کی ناکام کوشش

    Facebook Twitter Email
    India’s Failed Attempt to Withdraw from the Indus Waters Treaty
    The Indus Waters Treaty: A Binding Agreement India Cannot Violate
    Share
    Facebook Twitter Email

    بھارت ایک مرتبہ پھر اپنی داخلی نااہلیوں اور پالیسی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر اپنے ضمیر کو تسلی دینے کی لاحاصل کوشش کر رہا ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی وہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے، مگر یہ ایک ایسا اقدام ہے جو نہ صرف ناقابلِ عمل ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہوگی۔

    سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا۔ اس تاریخی معاہدے پر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ تین مغربی دریاؤں — سندھ، جہلم اور چناب — کو پاکستان کے حوالے کرتا ہے جبکہ تین مشرقی دریاؤں — راوی، بیاس اور ستلج — بھارت کے زیرِ انتظام رہتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو دریاؤں کے کل پانی کا تقریباً 80 فیصد حصہ حاصل ہے۔

    معاہدے کی قانونی نوعیت اس قدر مضبوط ہے کہ اس کے آرٹیکل 12(4) کے مطابق یہ صرف اسی صورت ختم ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک تحریری طور پر اس پر متفق ہوں۔ یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل یا منسوخ کرنا نہ صرف معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے بھارت کی قانونی ساکھ پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ اس معاہدے میں کسی بھی یکطرفہ معطلی یا تنسیخ کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ یہ ایک غیر معینہ مدت تک لاگو رہنے والا معاہدہ ہے، جس کی حیثیت محض وقت یا سیاسی حالات سے مشروط نہیں ہے۔

    بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنا نہ صرف مستقل انڈس کمیشن یا بین الاقوامی ثالثی کے طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ یہ خود اس معاہدے کی روح کے بھی منافی ہے۔ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگوں، سیاسی کشیدگیوں اور تنازعات کے باوجود اپنی حیثیت برقرار رکھی ہے، جو اس کی قانونی و اخلاقی حیثیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔

    اگر بھارت پانی کی روانی کو روکنے کے لیے معاہدے سے انحراف کرتا ہے تو یہ عمل نہ صرف پاکستان کے لیے خطرناک ہوگا بلکہ خطے میں ایک خطرناک نظیر بھی قائم کرے گا۔ پاکستان اس اقدام کو ’’معاہدے کی خلاف ورزی‘‘ تصور کرے گا جبکہ بھارت اسے ’’معاہدے کی معطلی یا منسوخی‘‘ قرار دینے کی کوشش کرے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر بھارت دریاؤں کا پانی روکنے کا ارادہ رکھتا ہے، تو کیا یہ قدم چین کے لیے بھی ایک مثال بنے گا؟ چین برہمپترا دریا کے معاملے پر اسی بھارتی طرزِ عمل کا حوالہ دے سکتا ہے۔

    بین الاقوامی آبی قانون کے مطابق بالا دستی رکھنے والا ملک (جیسے بھارت) زیریں ملک (جیسے پاکستان) کے پانی کو روکنے کا کوئی جواز نہیں رکھتا، خواہ معاہدہ موجود ہو یا نہ ہو۔ بھارت اگر اس سمت میں قدم اٹھاتا ہے تو وہ بین الاقوامی سطح پر ایک ایسا رجحان قائم کرے گا جو خود اس کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔

    بھارت کی حالیہ حرکتوں میں مزید اشتعال انگیزی دیکھی گئی ہے۔ اس نے پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی اٹاری بارڈر کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تاہم یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سرحد بند کی گئی ہو؛ اس سے قبل بھی یہ تقریباً نو مرتبہ بند کی جا چکی ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ نہ صرف ایک قانونی دستاویز ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون کی بنیاد بھی ہے۔ بھارت کی حالیہ کوششیں ایک طرف اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتی ہیں اور دوسری طرف یہ خطے میں پانی کے بحران کو مزید سنگین کر سکتی ہیں۔ اس تناظر میں عالمی برادری، خاص طور پر عالمی بینک کو، چاہیے کہ وہ بھارت کو یاد دلائے کہ وہ اس معاہدے کا ضامن ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری مداخلت کرے۔

    سندھ طاس معاہدے کی حیثیت آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی 1960 میں تھی، اور اس کی خلاف ورزی نہ صرف قانونی پیچیدگیاں پیدا کرے گی بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا
    Next Article بھارتی شہر احمد آباد میں طیارہ گر کر تباہ؛ 240 سے زائد افراد ہلاک، ایک مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.