Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جولائی 28, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 13 حلقوں میں سے 7 کے نتائج مکمل، مسلم لیگ ن 5 اور پیپلز پارٹی 2 پر کامیاب
    • جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات
    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
    • بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا
    • پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی شدید مذمت، کشمیر پر مؤقف ایک بار پھر واضح
    • پشاور: پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مبینہ مقابلہ، ایک دہشت گرد ہلاک
    • آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ پُرامن ماحول میں جاری، عوام کا جمہوری عمل پر بھرپور اعتماد
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بھارت کی سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری کی ناکام کوشش
    بلاگ

    بھارت کی سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری کی ناکام کوشش

    جون 12, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    India’s Failed Attempt to Withdraw from the Indus Waters Treaty
    The Indus Waters Treaty: A Binding Agreement India Cannot Violate
    Share
    Facebook Twitter Email

    بھارت ایک مرتبہ پھر اپنی داخلی نااہلیوں اور پالیسی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر اپنے ضمیر کو تسلی دینے کی لاحاصل کوشش کر رہا ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی وہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے، مگر یہ ایک ایسا اقدام ہے جو نہ صرف ناقابلِ عمل ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہوگی۔

    سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا۔ اس تاریخی معاہدے پر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ تین مغربی دریاؤں — سندھ، جہلم اور چناب — کو پاکستان کے حوالے کرتا ہے جبکہ تین مشرقی دریاؤں — راوی، بیاس اور ستلج — بھارت کے زیرِ انتظام رہتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو دریاؤں کے کل پانی کا تقریباً 80 فیصد حصہ حاصل ہے۔

    معاہدے کی قانونی نوعیت اس قدر مضبوط ہے کہ اس کے آرٹیکل 12(4) کے مطابق یہ صرف اسی صورت ختم ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک تحریری طور پر اس پر متفق ہوں۔ یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل یا منسوخ کرنا نہ صرف معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے بھارت کی قانونی ساکھ پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ اس معاہدے میں کسی بھی یکطرفہ معطلی یا تنسیخ کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ یہ ایک غیر معینہ مدت تک لاگو رہنے والا معاہدہ ہے، جس کی حیثیت محض وقت یا سیاسی حالات سے مشروط نہیں ہے۔

    بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنا نہ صرف مستقل انڈس کمیشن یا بین الاقوامی ثالثی کے طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ یہ خود اس معاہدے کی روح کے بھی منافی ہے۔ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگوں، سیاسی کشیدگیوں اور تنازعات کے باوجود اپنی حیثیت برقرار رکھی ہے، جو اس کی قانونی و اخلاقی حیثیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔

    اگر بھارت پانی کی روانی کو روکنے کے لیے معاہدے سے انحراف کرتا ہے تو یہ عمل نہ صرف پاکستان کے لیے خطرناک ہوگا بلکہ خطے میں ایک خطرناک نظیر بھی قائم کرے گا۔ پاکستان اس اقدام کو ’’معاہدے کی خلاف ورزی‘‘ تصور کرے گا جبکہ بھارت اسے ’’معاہدے کی معطلی یا منسوخی‘‘ قرار دینے کی کوشش کرے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر بھارت دریاؤں کا پانی روکنے کا ارادہ رکھتا ہے، تو کیا یہ قدم چین کے لیے بھی ایک مثال بنے گا؟ چین برہمپترا دریا کے معاملے پر اسی بھارتی طرزِ عمل کا حوالہ دے سکتا ہے۔

    بین الاقوامی آبی قانون کے مطابق بالا دستی رکھنے والا ملک (جیسے بھارت) زیریں ملک (جیسے پاکستان) کے پانی کو روکنے کا کوئی جواز نہیں رکھتا، خواہ معاہدہ موجود ہو یا نہ ہو۔ بھارت اگر اس سمت میں قدم اٹھاتا ہے تو وہ بین الاقوامی سطح پر ایک ایسا رجحان قائم کرے گا جو خود اس کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔

    بھارت کی حالیہ حرکتوں میں مزید اشتعال انگیزی دیکھی گئی ہے۔ اس نے پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی اٹاری بارڈر کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تاہم یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سرحد بند کی گئی ہو؛ اس سے قبل بھی یہ تقریباً نو مرتبہ بند کی جا چکی ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ نہ صرف ایک قانونی دستاویز ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون کی بنیاد بھی ہے۔ بھارت کی حالیہ کوششیں ایک طرف اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتی ہیں اور دوسری طرف یہ خطے میں پانی کے بحران کو مزید سنگین کر سکتی ہیں۔ اس تناظر میں عالمی برادری، خاص طور پر عالمی بینک کو، چاہیے کہ وہ بھارت کو یاد دلائے کہ وہ اس معاہدے کا ضامن ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری مداخلت کرے۔

    سندھ طاس معاہدے کی حیثیت آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی 1960 میں تھی، اور اس کی خلاف ورزی نہ صرف قانونی پیچیدگیاں پیدا کرے گی بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا
    Next Article بھارتی شہر احمد آباد میں طیارہ گر کر تباہ؛ 240 سے زائد افراد ہلاک، ایک مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 13 حلقوں میں سے 7 کے نتائج مکمل، مسلم لیگ ن 5 اور پیپلز پارٹی 2 پر کامیاب

    جولائی 27, 2026

    جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات

    جولائی 27, 2026

    چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات

    جولائی 27, 2026

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

    جولائی 27, 2026

    بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا

    جولائی 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.