Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مارچ 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا: سرحدی استحکام، اقتصادی امکانات ، گورنر کنڈی۔ تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • امریکا ایران فوجی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی
    • امریکی صدر کا ایران کی 48 اہم شخصیات کو شہید کرنے کا دعویٰ
    • پاکستان کی ایران پر حملوں کی مذمت، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل
    • امریکہ اور اسرائیل کا مشترکا حملہ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای شہید
    • موجودہ صورتحال کے پیش نظر جامع اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں، وزيراعظم کی ہدایت
    • ٹی 20 ورلڈکپ اہم میچ: سری لنکا کو شکست دے کر بھی قومی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی
    • وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ، ایران پر اسرائیلی حملے سے کشیدگی اور بعض خلیجی ممالک پر حملوں کی شدید مذمت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کرکٹ،سفارتکاری اور پاکستان کا فیصلہ
    بلاگ

    کرکٹ،سفارتکاری اور پاکستان کا فیصلہ

    فروری 9, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Cricket, diplomacy and Pakistan's decision
    قومی ٹیم میدان میں صرف ایک میچ کھیلنے نہیں اترے گی، بلکہ وہ ایک قومی بیانیے کی نمائندگی بھی کرے گی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد سے لیاقت علی خٹک کی خصوصی تحریر: ۔

    کچھ فیصلے صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہتے، وہ ریاستی پالیسی، سفارت کاری اور قومی وقار سے بھی جُڑ جاتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کا قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دینا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے، جس نے کھیل، سیاست اور خارجہ تعلقات کے کئی پہلوؤں کو ایک ساتھ نمایاں کر دیا ہے ۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پی سی بی، آئی سی سی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مابین ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی باضابطہ درخواستوں اور سری لنکا، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر دوست ممالک کے پیغامات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا، ان تمام مراسلات میں پاکستان سے درپیش حالیہ چیلنجز کے حل میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی تھی ۔

    یہاں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان نے ہمیشہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی بات کی ہے، لیکن برصغیر کے حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ محض ایک کھیل نہیں رہی، ہر میچ جذبات، بیانیے اور عالمی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت کا یہ فیصلہ کسی عجلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا، سفارتی تقاضوں سے ہم آہنگ قدم محسوس ہوتا ہے ۔

    اعلامیے میں بنگلا دیش کے صدر امین الاسلام کے بیان کو نوٹ کیے جانے اور برادر ملک کی جانب سے اظہارِ تشکر کو گرمجوشی سے قبول کرنے کا ذکر اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، مزید برآں وزیر اعظم اور سری لنکن صدر کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں بھی دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت کو دہرایا گیا ۔

    حکومتِ پاکستان نے دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلان کیا کہ قومی ٹیم 15 فروری 2026 کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ کھیلے گی ۔ اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور کھیل کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے، یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک واضح پیغام پوشیدہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کھیل کے میدان میں تنہائی کا تاثر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

    تاہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف کرکٹ کھیلنے سے وہ تلخ حقائق تبدیل ہو جائیں گے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود ہیں؟ شاید نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیل بعض اوقات مکالمے کے وہ دروازے کھول دیتا ہے جو سیاست بند کر دیتی ہے، پاکستان کا یہ فیصلہ کمزوری نہیں بلکہ اعتماد کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔

    اب اصل امتحان صرف حکومت یا سفارت کاری کا نہیں بلکہ قومی ٹیم کا بھی ہے۔ گرین شرٹس 15 فروری 2026 کو میدان میں صرف ایک میچ کھیلنے نہیں اتریں گی، بلکہ وہ ایک قومی بیانیے کی نمائندگی کریں گی۔ کھیل کے معیار، نظم و ضبط اور رویّے کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ پاکستان دباؤ میں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتا ہے، یوں یہ فیصلہ جیت یا ہار سے زیادہ، ریاستی بلوغت، سفارتی توازن اور عالمی نظام میں اپنے لیے جگہ برقرار رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleقومی ٹیم 15 فروری کو بھارت کیخلاف ٹی 20 ورلڈ کپ میں شیڈول میچ کھیلے گی ، وزیراعظم نے اجازت دیدی
    Next Article شینو مینو شو میں فوک گلوکار فریدون باچہ کی شاندار پرفارمنس، ناظرین کا بھرپور ردِعمل
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا: سرحدی استحکام، اقتصادی امکانات ، گورنر کنڈی۔ تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 2, 2026

    امریکا ایران فوجی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی

    مارچ 2, 2026

    امریکی صدر کا ایران کی 48 اہم شخصیات کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مارچ 2, 2026

    پاکستان کی ایران پر حملوں کی مذمت، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

    مارچ 1, 2026

    امریکہ اور اسرائیل کا مشترکا حملہ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای شہید

    مارچ 1, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.