اسلام آباد سے لیاقت علی خٹک کی خصوصی تحریر: ۔
کچھ فیصلے صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہتے، وہ ریاستی پالیسی، سفارت کاری اور قومی وقار سے بھی جُڑ جاتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کا قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دینا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے، جس نے کھیل، سیاست اور خارجہ تعلقات کے کئی پہلوؤں کو ایک ساتھ نمایاں کر دیا ہے ۔
اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پی سی بی، آئی سی سی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مابین ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی باضابطہ درخواستوں اور سری لنکا، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر دوست ممالک کے پیغامات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا، ان تمام مراسلات میں پاکستان سے درپیش حالیہ چیلنجز کے حل میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی تھی ۔
یہاں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان نے ہمیشہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی بات کی ہے، لیکن برصغیر کے حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ محض ایک کھیل نہیں رہی، ہر میچ جذبات، بیانیے اور عالمی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت کا یہ فیصلہ کسی عجلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا، سفارتی تقاضوں سے ہم آہنگ قدم محسوس ہوتا ہے ۔
اعلامیے میں بنگلا دیش کے صدر امین الاسلام کے بیان کو نوٹ کیے جانے اور برادر ملک کی جانب سے اظہارِ تشکر کو گرمجوشی سے قبول کرنے کا ذکر اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، مزید برآں وزیر اعظم اور سری لنکن صدر کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں بھی دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت کو دہرایا گیا ۔
حکومتِ پاکستان نے دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلان کیا کہ قومی ٹیم 15 فروری 2026 کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ کھیلے گی ۔ اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور کھیل کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے، یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک واضح پیغام پوشیدہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کھیل کے میدان میں تنہائی کا تاثر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔
تاہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف کرکٹ کھیلنے سے وہ تلخ حقائق تبدیل ہو جائیں گے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود ہیں؟ شاید نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیل بعض اوقات مکالمے کے وہ دروازے کھول دیتا ہے جو سیاست بند کر دیتی ہے، پاکستان کا یہ فیصلہ کمزوری نہیں بلکہ اعتماد کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔
اب اصل امتحان صرف حکومت یا سفارت کاری کا نہیں بلکہ قومی ٹیم کا بھی ہے۔ گرین شرٹس 15 فروری 2026 کو میدان میں صرف ایک میچ کھیلنے نہیں اتریں گی، بلکہ وہ ایک قومی بیانیے کی نمائندگی کریں گی۔ کھیل کے معیار، نظم و ضبط اور رویّے کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ پاکستان دباؤ میں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتا ہے، یوں یہ فیصلہ جیت یا ہار سے زیادہ، ریاستی بلوغت، سفارتی توازن اور عالمی نظام میں اپنے لیے جگہ برقرار رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔

