Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, مئی 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان کویت تعلقات: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا رابطہ، امن و استحکام پر زور
    • پاک افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کا عکاس نہیں: دفتر خارجہ
    • معرکۂ حق میں کامیابی، پاکستان امن کا علمبردار بن گیا: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
    • طالبان مخالف جذبات میں شدت، افغان شہری کی پاکستانی عسکری قیادت سے طالبان رجیم سے نجات دلانے کی اپیل
    • پاکستان-ازبکستان تعاون: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور ازبک گورنر کی ملاقات، تجارت بڑھانے پر اتفاق
    • ٹیکسلا میں ویساک ڈے 2026 کی مرکزی تقریب منعقد، عالمی رہنماؤں کی شرکت، امن، رواداری اور بدھ مت ورثے کے فروغ کا پیغام
    • افغان جارحیت کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، قبائلی عمائدین کا مشترکہ اعلامیہ
    • پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن بھی جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کرکٹ،سفارتکاری اور پاکستان کا فیصلہ
    بلاگ

    کرکٹ،سفارتکاری اور پاکستان کا فیصلہ

    فروری 9, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Cricket, diplomacy and Pakistan's decision
    قومی ٹیم میدان میں صرف ایک میچ کھیلنے نہیں اترے گی، بلکہ وہ ایک قومی بیانیے کی نمائندگی بھی کرے گی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد سے لیاقت علی خٹک کی خصوصی تحریر: ۔

    کچھ فیصلے صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہتے، وہ ریاستی پالیسی، سفارت کاری اور قومی وقار سے بھی جُڑ جاتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کا قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دینا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے، جس نے کھیل، سیاست اور خارجہ تعلقات کے کئی پہلوؤں کو ایک ساتھ نمایاں کر دیا ہے ۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پی سی بی، آئی سی سی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مابین ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی باضابطہ درخواستوں اور سری لنکا، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر دوست ممالک کے پیغامات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا، ان تمام مراسلات میں پاکستان سے درپیش حالیہ چیلنجز کے حل میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی تھی ۔

    یہاں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان نے ہمیشہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی بات کی ہے، لیکن برصغیر کے حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ محض ایک کھیل نہیں رہی، ہر میچ جذبات، بیانیے اور عالمی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت کا یہ فیصلہ کسی عجلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا، سفارتی تقاضوں سے ہم آہنگ قدم محسوس ہوتا ہے ۔

    اعلامیے میں بنگلا دیش کے صدر امین الاسلام کے بیان کو نوٹ کیے جانے اور برادر ملک کی جانب سے اظہارِ تشکر کو گرمجوشی سے قبول کرنے کا ذکر اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، مزید برآں وزیر اعظم اور سری لنکن صدر کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں بھی دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت کو دہرایا گیا ۔

    حکومتِ پاکستان نے دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلان کیا کہ قومی ٹیم 15 فروری 2026 کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ کھیلے گی ۔ اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ اور کھیل کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے، یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک واضح پیغام پوشیدہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کھیل کے میدان میں تنہائی کا تاثر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

    تاہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف کرکٹ کھیلنے سے وہ تلخ حقائق تبدیل ہو جائیں گے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود ہیں؟ شاید نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کھیل بعض اوقات مکالمے کے وہ دروازے کھول دیتا ہے جو سیاست بند کر دیتی ہے، پاکستان کا یہ فیصلہ کمزوری نہیں بلکہ اعتماد کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔

    اب اصل امتحان صرف حکومت یا سفارت کاری کا نہیں بلکہ قومی ٹیم کا بھی ہے۔ گرین شرٹس 15 فروری 2026 کو میدان میں صرف ایک میچ کھیلنے نہیں اتریں گی، بلکہ وہ ایک قومی بیانیے کی نمائندگی کریں گی۔ کھیل کے معیار، نظم و ضبط اور رویّے کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ پاکستان دباؤ میں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتا ہے، یوں یہ فیصلہ جیت یا ہار سے زیادہ، ریاستی بلوغت، سفارتی توازن اور عالمی نظام میں اپنے لیے جگہ برقرار رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleقومی ٹیم 15 فروری کو بھارت کیخلاف ٹی 20 ورلڈ کپ میں شیڈول میچ کھیلے گی ، وزیراعظم نے اجازت دیدی
    Next Article شینو مینو شو میں فوک گلوکار فریدون باچہ کی شاندار پرفارمنس، ناظرین کا بھرپور ردِعمل
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان کویت تعلقات: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا رابطہ، امن و استحکام پر زور

    مئی 2, 2026

    پاک افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کا عکاس نہیں: دفتر خارجہ

    مئی 2, 2026

    معرکۂ حق میں کامیابی، پاکستان امن کا علمبردار بن گیا: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

    مئی 2, 2026

    طالبان مخالف جذبات میں شدت، افغان شہری کی پاکستانی عسکری قیادت سے طالبان رجیم سے نجات دلانے کی اپیل

    مئی 2, 2026

    پاکستان-ازبکستان تعاون: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور ازبک گورنر کی ملاقات، تجارت بڑھانے پر اتفاق

    مئی 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.