حکومت نے چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کو معاشی دھارے میں شامل کرنے کے لیے فکس ٹیکس سکیم‘ متعارف کروانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، سکیم کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سیلز (ٹرن اوور) والے دکانداروں کو صرف 1 فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس نئی اسکیم کی تفصیلات سے آگاہ کیا، سکیم کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سیلز (ٹرن اوور) والے دکانداروں کو صرف 1 فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں بے شمار چیلنجز کا مقابلہ اپنے ذاتی وسائل سے کیا ہے اور اس دوران کسی بیرونی امداد پر انحصار نہیں کیا گیا ۔
انہوں نے واضع کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کے باوجود ملکی معیشت مستحکم رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا اصل مقصد موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنا اور ٹیکس کے نظام میں وسعت لا کر نئے شعبوں کو اس نیٹ میں شامل کرنا ہے ۔
وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے سکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مشن 35 لاکھ سے زیادہ چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے، جس کے لیے رجسٹرڈ چھوٹے تاجروں کی تعداد کو موجودہ 6 لاکھ سے بڑھا کر 35 لاکھ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس سکیم کے تحت 20 کروڑ روپے کے سالانہ ٹرن اوور پر محض 25 ہزار روپے ٹیکس لاگو ہوگا۔ تاجروں کی سہولت کے لیے ایک صفحے کا انتہائی سادہ فارم بھی تیار کر لیا گیا ہے ۔
اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے فائلر تاجروں کو 3 سال میں سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی سیل ظاہر کرنا ہوگی، تاہم نقصان ظاہر کرنے والے تاجروں کو نارمل ٹیکس رجیم کے تحت ہی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا ۔
بلال اظہر کیانی نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والے رجسٹرڈ چھوٹے تاجروں کا کوئی آڈٹ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں دکانوں پر پی او ایس سسٹم نصب کرنے کی ضرورت ہوگی ۔
سکيم کے بعد رجسٹرڈ دکاندار کی دکان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کوئی بھی افسر داخل نہیں ہو سکے گا، جہاں تک بڑے تاجروں کا تعلق ہے، ان کا آڈٹ بھی ان کی اپنی تاجر کمیٹی کی مشاورت سے ہی ممکن ہو سکے گا ۔
سکیم میں شامل نہ ہونے اور رجسٹریشن سے گریز کرنے والے تاجروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائیوں کا بھی اعلان کیا ہے، وزیرِ مملکت کے مطابق، نان فائلر تاجروں کو پہلے مہینے 10 ہزار روپے اور دوسرے مہینے 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا ۔
اس کے باوجود اگر مستقل رجسٹریشن نہ کرائی گئی، تو دکاندار کو ماہانہ 50 ہزار روپے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ چھوٹے تارجروں کا کوئی آڈٹ بھی نہیں ہوگا ۔

