برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے پر بات چیت یا ابتدائی فریم ورک میں بڑے مالیاتی اور اقتصادی اقدامات شامل ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تہران کے لیے تقریباً 300 ارب ڈالر کے ایک پرائیویٹ سرمایہ کاری فنڈ کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد توانائی، لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں کی ترقی بتایا جا رہا ہے۔
مزید رپورٹس کے مطابق ایران کو تقریباً 150 ارب ڈالر کی ممکنہ مالی معاونت یا سرمایہ کاری کی یقین دہانی پہلے سے دیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران سے تیل کی برآمدات اور فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔
خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی یا ان کے خاتمے کا امکان ہو سکتا ہے، جس کا اثر بینکاری، ٹرانسپورٹ اور انشورنس سمیت مختلف خدماتی شعبوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ ایران کو دی جانے والی کسی بھی سہولت یا مالی معاونت کا انحصار مکمل طور پر معاہدے پر عملدرآمد اور اس کی شرائط کی پاسداری سے مشروط ہوگا۔
یہ تمام معلومات فی الحال میڈیا رپورٹس اور دعوؤں کی سطح پر ہیں اور کسی حتمی معاہدے کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

