Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » غزہ جنگ سے توجہ ہٹانے کی سازش؟ اسرائیل، بھارت اور پاکستان کی نئی کہانی
    بلاگ جون 1, 2025

    غزہ جنگ سے توجہ ہٹانے کی سازش؟ اسرائیل، بھارت اور پاکستان کی نئی کہانی

    Facebook Twitter Email
    Why the US Sided with Pakistan During India Tensions
    How Pakistan Won the Diplomatic War Against India
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران یہ بات سب کی توجہ کا مرکز بنی کہ امریکہ، جو خطے میں بھارت کا اسٹریٹیجک اتحادی سمجھا جاتا ہے، اس بار بھارت کے بجائے پاکستان کے مؤقف کے قریب نظر آیا۔ حالانکہ امریکہ کے بھارت کے ساتھ کئی اقتصادی، دفاعی اور سیاسی مفادات وابستہ ہیں، جبکہ پاکستان کا جھکاؤ واضح طور پر چین کی طرف ہے، جو امریکہ کا بڑا عالمی حریف ہے۔

    اس غیر معمولی رویے کے دو ممکنہ اسباب بتائے جا رہے ہیں، جنہیں بعض مبصرین ایک "سازشی نظریہ” بھی قرار دیتے ہیں۔

    پہلا سبب اسرائیل-غزہ جنگ اور عالمی دباؤ ہے۔اس وقت دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے، خاص طور پر غزہ میں جاری جنگ کے بعد۔ بہت سے ممالک اور عوامی حلقے جو پہلے اسرائیل کے بارے میں غیر جانبدار تھے، اب اس کے شدید ناقد بن چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ میں جس فوجی منصوبے کے تحت کارروائی کا آغاز کیا تھا، وہ تاحال ناکام رہا ہے؛ نہ وہ غزہ پر مکمل قبضہ حاصل کر سکا ہے اور نہ ہی حماس نے ہتھیار ڈالے ہیں۔

    دوسری جانب، امریکہ جو اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی سمجھا جاتا ہے، خود بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہو چکا ہے، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی قیادت کے درمیان۔ ٹرمپ غزہ کے مسئلے کو کسی معقول حل تک پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیل ان کے منصوبے کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔

    مغربی ممالک، عرب دنیا اور کئی عالمی طاقتیں بھی اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اس صورتحال میں اسرائیل دنیا میں تنہائی کا شکار ہو چکا ہے — سوائے بھارت کے، جو اب بھی اس کا قریبی اتحادی ہے۔

    بعض حلقوں کے مطابق اس دوران  اسرائیل اور بھارت نے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی جائے تاکہ دنیا کی توجہ اسرائیل-غزہ جنگ سے ہٹائی جا سکے، اور اسرائیل اس دوران غزہ پر زمینی قبضے کی کوشش کرے۔ تاہم، جب پہلگام حملہ ہوا، تو اس وقت امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس بھارت کے دورے پر تھے۔

    بعد میں انٹیلیجنس اداروں نے انہیں مطلع کیا کہ یہ ایک فالس فلیگ آپریشن  ہے، جس میں اسرائیل بھی پس پردہ شامل ہے۔ وینس نے یہ معلومات صدر ٹرمپ تک پہنچائیں، جو پہلے ہی اسرائیل کے رویے سے ناخوش تھے۔ انہیں یہ اور برا لگا کہ اسرائیل، امریکہ کو بھارت-پاکستان کشیدگی میں الجھانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا اور جنگ بندی کی ثالثی خود کی، جس پر بھارت مزید ناراض ہوا۔

    دوسری وجہ، پاکستان کی اسٹریٹیجک لابنگ اور اقتصادی تعلقات ہیں۔جب امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے، تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے واشنگٹن میں کئی لابنگ کمپنیوں کی خدمات حاصل کیں۔ ان کا مقصد پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا، کانگریس میں پاکستان مخالف بلز کو روکنا، اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا تھا۔

    اسی دوران ٹرمپ کے قریبی بزنس پارٹنر "جنٹری بیچ” نے پاکستان کا دورہ کیا اور کئی نجی معاہدے کیے۔ حال ہی میں پاکستان نے ایک کرپٹوکرنسی کمپنی میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، جس کے 60 فیصد شیئرز ٹرمپ اور ان کے خاندان کے پاس ہیں۔

    مزید برآں، پاکستان مستقبل قریب میں امریکہ کے ساتھ معدنی وسائل (خاص طور پر ریکوڈک جیسے ذخائر) پر بڑے معاہدے کرنے جا رہا ہے۔ یہ سب عوامل امریکہ کے لیے پاکستان کو ایک اہم شراکت دار بنانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔

    اس تمام صورتحال میں پاکستان نے نہ صرف میدان جنگ میں برتری حاصل کی، بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ امریکہ، چین، ایران، ترکی، آذربائیجان اور دیگر کئی ممالک نے پاکستان کے مؤقف کو سراہا۔ جبکہ بھارت عالمی سطح پر تنہا ہوتا گیا اور اس کے کئی مغربی اتحادی بھی اس سے پیچھے ہٹ گئے۔

     

     

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکوہاٹ : درہ آدم خیل میں ایک گھر دھماکے سے تباہ، 2 افراد جاں بحق
    Next Article ہمارے پاس بھارت کی پراکسی کے ثبوت موجود ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

    ستمبر 18, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور

    ستمبر 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.