Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    • چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام محکموں کو خریداری کے عمل کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » غزہ جنگ سے توجہ ہٹانے کی سازش؟ اسرائیل، بھارت اور پاکستان کی نئی کہانی
    بلاگ جون 1, 2025

    غزہ جنگ سے توجہ ہٹانے کی سازش؟ اسرائیل، بھارت اور پاکستان کی نئی کہانی

    Facebook Twitter Email
    Why the US Sided with Pakistan During India Tensions
    How Pakistan Won the Diplomatic War Against India
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران یہ بات سب کی توجہ کا مرکز بنی کہ امریکہ، جو خطے میں بھارت کا اسٹریٹیجک اتحادی سمجھا جاتا ہے، اس بار بھارت کے بجائے پاکستان کے مؤقف کے قریب نظر آیا۔ حالانکہ امریکہ کے بھارت کے ساتھ کئی اقتصادی، دفاعی اور سیاسی مفادات وابستہ ہیں، جبکہ پاکستان کا جھکاؤ واضح طور پر چین کی طرف ہے، جو امریکہ کا بڑا عالمی حریف ہے۔

    اس غیر معمولی رویے کے دو ممکنہ اسباب بتائے جا رہے ہیں، جنہیں بعض مبصرین ایک "سازشی نظریہ” بھی قرار دیتے ہیں۔

    پہلا سبب اسرائیل-غزہ جنگ اور عالمی دباؤ ہے۔اس وقت دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے، خاص طور پر غزہ میں جاری جنگ کے بعد۔ بہت سے ممالک اور عوامی حلقے جو پہلے اسرائیل کے بارے میں غیر جانبدار تھے، اب اس کے شدید ناقد بن چکے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ میں جس فوجی منصوبے کے تحت کارروائی کا آغاز کیا تھا، وہ تاحال ناکام رہا ہے؛ نہ وہ غزہ پر مکمل قبضہ حاصل کر سکا ہے اور نہ ہی حماس نے ہتھیار ڈالے ہیں۔

    دوسری جانب، امریکہ جو اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی سمجھا جاتا ہے، خود بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہو چکا ہے، خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی قیادت کے درمیان۔ ٹرمپ غزہ کے مسئلے کو کسی معقول حل تک پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیل ان کے منصوبے کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔

    مغربی ممالک، عرب دنیا اور کئی عالمی طاقتیں بھی اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اس صورتحال میں اسرائیل دنیا میں تنہائی کا شکار ہو چکا ہے — سوائے بھارت کے، جو اب بھی اس کا قریبی اتحادی ہے۔

    بعض حلقوں کے مطابق اس دوران  اسرائیل اور بھارت نے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی جائے تاکہ دنیا کی توجہ اسرائیل-غزہ جنگ سے ہٹائی جا سکے، اور اسرائیل اس دوران غزہ پر زمینی قبضے کی کوشش کرے۔ تاہم، جب پہلگام حملہ ہوا، تو اس وقت امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس بھارت کے دورے پر تھے۔

    بعد میں انٹیلیجنس اداروں نے انہیں مطلع کیا کہ یہ ایک فالس فلیگ آپریشن  ہے، جس میں اسرائیل بھی پس پردہ شامل ہے۔ وینس نے یہ معلومات صدر ٹرمپ تک پہنچائیں، جو پہلے ہی اسرائیل کے رویے سے ناخوش تھے۔ انہیں یہ اور برا لگا کہ اسرائیل، امریکہ کو بھارت-پاکستان کشیدگی میں الجھانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا اور جنگ بندی کی ثالثی خود کی، جس پر بھارت مزید ناراض ہوا۔

    دوسری وجہ، پاکستان کی اسٹریٹیجک لابنگ اور اقتصادی تعلقات ہیں۔جب امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے، تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے واشنگٹن میں کئی لابنگ کمپنیوں کی خدمات حاصل کیں۔ ان کا مقصد پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا، کانگریس میں پاکستان مخالف بلز کو روکنا، اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا تھا۔

    اسی دوران ٹرمپ کے قریبی بزنس پارٹنر "جنٹری بیچ” نے پاکستان کا دورہ کیا اور کئی نجی معاہدے کیے۔ حال ہی میں پاکستان نے ایک کرپٹوکرنسی کمپنی میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، جس کے 60 فیصد شیئرز ٹرمپ اور ان کے خاندان کے پاس ہیں۔

    مزید برآں، پاکستان مستقبل قریب میں امریکہ کے ساتھ معدنی وسائل (خاص طور پر ریکوڈک جیسے ذخائر) پر بڑے معاہدے کرنے جا رہا ہے۔ یہ سب عوامل امریکہ کے لیے پاکستان کو ایک اہم شراکت دار بنانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔

    اس تمام صورتحال میں پاکستان نے نہ صرف میدان جنگ میں برتری حاصل کی، بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ امریکہ، چین، ایران، ترکی، آذربائیجان اور دیگر کئی ممالک نے پاکستان کے مؤقف کو سراہا۔ جبکہ بھارت عالمی سطح پر تنہا ہوتا گیا اور اس کے کئی مغربی اتحادی بھی اس سے پیچھے ہٹ گئے۔

     

     

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکوہاٹ : درہ آدم خیل میں ایک گھر دھماکے سے تباہ، 2 افراد جاں بحق
    Next Article ہمارے پاس بھارت کی پراکسی کے ثبوت موجود ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    افغانستان سے دہشت گردی اور منشیات سمگلنگ پر عالمی تشویش، وسطی ایشیاء کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ

    اکتوبر 19, 2026

    طالبان رجیم کو بڑا جھٹکا، چین کا سیکیورٹی خدشات پر واخان کوریڈور کھولنے سے انکار

    اکتوبر 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026

    بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.