Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا
    • اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ
    • گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک
    • تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی
    • پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
    • چینی کاروباری وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ، تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال
    • پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 2سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 66 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » جنید اکبر کا امتحان
    بلاگ فروری 3, 2025

    جنید اکبر کا امتحان

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    (مدثر حسین) تحریک انصاف کو بطور جماعت اس وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہیں۔ ایک اپنے سربراہ کو جیل سے رہا کروانا اور دوسرا چیلنج بطور جماعت اپنی حثیت کو برقرار رکھنا۔

    آئیے ہم ان دو بڑے چیلنجز کے لیے پارٹی کی تیاری اور کوششوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر بانی پی ٹی ائی کی رہائی کے لیے کوششوں کا سرسری جائزہ لیا جائیں تو نو مئی کے بعد سے پے درپے احتجاجی مارچز، ڈی چوک دھرنے اور ملک بند کرنیکی کوششیں ناکام اور نامراد رہی ہیں۔ لیڈر کو رہا کرانا تو دور کی بات الٹا قیادت اور کارکنوں کے اوپر مزید پرچے درج ہوچکے ہیں۔

    مسلسل احتجاجی سیاست نے کارکنوں کو بھی نالاں کردیا ھے۔ دوسری طرف اندرون خانہ پی ٹی آئی میں گروپ بندی عروج پر ھے۔ وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے الیکشن کے دنوں میں پارٹی کے اندر اپنے تمام مخالفین کو وفاق بھیج کر اپنے لیے میدان صاف کر لیا تھا۔ لیکن اسکے باوجود علی امین نہ تو گورننس میں امیدوں پر پورا اتر رہا نہ ہی بانی کو جیل سے رہا کروانے میں بظاہر علی امین سنجدہ ھے۔ اس صورتحال میں خان صاحب کو بھی اندازہ ہوچکا ھے کہ علی امین کو صوبے میں پارٹی صدارت اور وزارت اعلیٰ کے عہدے بیک وقت دینا ہرگز دانشمندی نہیں تھی۔ خان صاحب کا اس سے پہلے بھی اپنے وزرائے اعلیٰ سے متعلق تجربہ اچھا نہیں ۔ چاہے وہ پرویز خٹک ہو یا عثمان بزدار، یا پھر محمود خان۔ ان تنیوں نے خان کو تاریکی میں رکھ کر اسٹیبلمشنٹ سے اپنا تعلق بنائے رکھا اور وقت انے پر خان کو بیچ سمندر اکیلا ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیا۔

    نومبر میں ڈی چوک احتجاج ناکام ہونے کے بعد خان صاحب کی علی امین پر اعتماد میں کافی کمی آئی۔ کہا جاتا ھے کہ بشریٰ بی بی نے بھی جیل جاکر خان کو پختونخوا کی حکومت سے بدظن کرایا ھے۔ شکیل خان، عاطف اور اسد قیصر کافی عرصے سے علی امین کے خلاف پارٹی کے اندر لابنگ کرتے رہے ہیں۔ باوثوق زرائع کے مطابق 2024 کے آخری ایام میں جنید اکبر نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان کو علی امین گروپ کے خلاف بھڑکایا، چونکہ خان کے کان پہلے سے پک چکے تھے، اسی لیے 25 جنوری کو اعلان کیا گیا کہ مالاکنڈ حلقہ این اے 9 سے مںتخب رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کو چیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی بنایا گیا،  خیبر پختونخوا میں پارٹی صدارت کا عہدہ علی امین سے لیکر جنید اکبر کو دیا گیا۔ اور یوں مالاکنڈ کا یہ 47 سالہ میڈل کلاس ایم این اے راتوں رات پارٹی کا مرکزی لیڈر بن گیا۔ اگرچہ مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک جنید اکبر پارٹی میں جانا پہچانا شخص تھا کیونکہ اسکی شہرت ایک شریف النفس شخص کے طور پر ھے۔ لیکن یک دم دو اہم عہدوں پر فائز ہو کر جنید اکبر پارٹی کے اندر کلیدی فیصلہ ساز بن گیا۔ لیکن یہ اہم عہدے اپنے ساتھ بہت بھاری زمہ داریاں بھی لائے ہیں۔ گرچہ جنید اکبر نے سیاست کا اغاز ہی پی ٹی آئی سے کیا ھے، نہ پارٹی بدلی، نہ مشکل وقت میں ساتھ چھوڑا ھے۔ لیکن صرف وفاداری سیاست میں کامیابی کی کنجی نہیں۔ سیاسی طور پر کامیاب رہنے کے لیے سب کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ھے ،اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا مطلب جوڑ توڑ، کمپرومائز اور اصولوں سے انحراف ھے۔ راقم نے اس تحریر کے لکھنے سے پہلے جنید اکبر سے ان چیلنجز پر بات کی۔ دوران گفتگو اسکا موقف یہی تھا کہ خان کو رہا کروانا اور پارٹی کی تنظیمی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں اسکی ترجیحات ہیں۔ کچھ حلقے سمجھتے ھے کہ جنید جیسا شریف اور کم تجربہ کار شخص پی ٹی ائی میں جاری رسہ کشی کو مزید مہمیز دیں گا، کیونکہ علی امین گروپ ہرگز یہ نہیں چاہے گا کہ پارٹی میں کوئی اور آکر مرکزی فیصلے لیں، چاہے وہ تنظیمی ہوں یا ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق۔ ایسے میں 8 فروری کو پی ٹی ائی کا اعلاں شدہ احتجاج اہمیت اختیار کرچکا کیونکہ یہ مائنس علی امین پہلا بڑا پاور شو ہوگا۔ اگر جنید اکبر گروپ اس پاور شو کو شایان شان طریقے سے منیج نہیں کرسکا تو شائد مخالف گروپ صورتحال کا فائدہ اٹھا کر کمان سے پہلا تیر مار دیں۔ یہ دھندلا منظر نامہ 8 فروری کے بعد واضح ہوجائیگا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    Next Article پاکستان، سعودی فنڈ فار ڈیويلپمنٹ کے درمیان 1.61 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط
    Web Desk

    Related Posts

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا

    اکتوبر 21, 2026

    اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ

    اکتوبر 21, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.