ایران میں اسرائیلی حملے میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں ۔
اس حوالے سے ایران نے متعدد انٹیلی جنس اور ملٹری افسران کو حراست میں لے لیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے ملٹری ذرائع کا بتانا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی تحقیات کے لیے حماس رہنما کے گیسٹ ہاؤس کے ملازمین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق اسماعیل ہنیہ پر تہران میں قاتلانہ حملے کے بعد پاسداران انقلاب کی خصوصی انٹیلی جنس ٹیم تحقیقات کر رہی ہے۔
اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری کے بعد اپنی رہائش گاہ میں حملے کے دوران شہید کیا گیا تھا ۔
ایران نے اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل کرنے کا بدلہ لینا خود پر فرض قرار دے دیا ہے جبکہ اسرائیل نے تاحال اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
ہفتہ, فروری 28, 2026
بریکنگ نیوز
- موجودہ صورتحال کے پیش نظر جامع اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں، وزيراعظم کی ہدایت
- ٹی 20 ورلڈکپ اہم میچ: سری لنکا کو شکست دے کر بھی قومی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی
- وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ، ایران پر اسرائیلی حملے سے کشیدگی اور بعض خلیجی ممالک پر حملوں کی شدید مذمت
- ایران میں مقیم پاکستانی نقل و حرکت محدود رکھیں اور محتاط رہیں: دفتر خارجہ
- ایران میں اسرائیل کا لڑکیوں کے سکول پر حملہ، 40 شہید ،ايران کا بھی سخت ردعمل، کئی امریکی اڈوں پر حملے
- امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، تہران اور شمالی علاقوں میں دھماکے
- امریکا کا پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعلان، طالبان حملوں پر مؤقف واضح
- آپریشن غضب للحق جاری، 331 طالبان ہلاک، 104 چیک پوسٹیں تباہ, پاک فوج کی سرحدی کارروائیاں تیز

