ایران میں اسرائیلی حملے میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں ۔
اس حوالے سے ایران نے متعدد انٹیلی جنس اور ملٹری افسران کو حراست میں لے لیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے ملٹری ذرائع کا بتانا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی تحقیات کے لیے حماس رہنما کے گیسٹ ہاؤس کے ملازمین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق اسماعیل ہنیہ پر تہران میں قاتلانہ حملے کے بعد پاسداران انقلاب کی خصوصی انٹیلی جنس ٹیم تحقیقات کر رہی ہے۔
اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری کے بعد اپنی رہائش گاہ میں حملے کے دوران شہید کیا گیا تھا ۔
ایران نے اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل کرنے کا بدلہ لینا خود پر فرض قرار دے دیا ہے جبکہ اسرائیل نے تاحال اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
بدھ, مارچ 4, 2026
بریکنگ نیوز
- وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو
- حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت
- برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار
- ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان
- پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال
- رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان
- امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے
- پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری

