خیبر پختونخوا کے صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (PIFTAC) کے زیرِ نگرانی صوبے کے ممتاز علما کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاشرے میں شدت پسندی کی روک تھام اور انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی میں علما کے کردار پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں ایک پُرامن اور ہم آہنگ معاشرے کے قیام کے لیے مختلف عملی طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر مولانا احسان الحق، مولانا حسین احمد، مولانا معراج الدین سرکانی، علامہ عابد حسین شاکری اور مولانا عبید شیخ نے شرکت کی۔
شرکاء نے شدت پسندی کو ایک سنگین سماجی ناسور قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملیوں اور قابلِ عمل اقدامات پر گفتگو کی۔
اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن، ان کے نظام کو منظم بنانے اور رسمی تعلیمی اداروں، کالجوں اور جامعات کے ساتھ ان کے باہمی روابط کو فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا۔
علما نے مدارس اور دیگر تعلیمی و سرکاری اداروں کے درمیان مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ مدارس کے طلبہ کے لیے عصری تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر علما نے واضح کیا کہ وہ ہر قسم کی تشدد اور دہشت گردی کی قطعی مذمت کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

