وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ ہر صورت ہو گا، چاہے یہ سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولی چلائیں، کیا ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے؟
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کا لانگ مارچ ضرورہو گا تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی کی قیادت کرے گی ۔
انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کی میٹنگ ابھی بھی جاری ہے جس کے بعد آپ سے دوبارہ ملاقات ہو گی، ہم اس بار نکلیں گے تو اس ’کرپٹ نظام ‘کا ہر صورت بندوبست کریں گے ۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک مہینے سے بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ ہمیں انڈیا سے نہیں تین صوبوں سے خطرہ ہے، کیا ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے؟
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جہاں خیبرپختونخوا کی سرحد ختم ہوتی ہے وہاں کیلیں ٹھونکی جا رہی ہیں، دوسرے صوبوں کے سرکاری لوگ ہمارے صوبے میں گھس کر گتھم گتھا ہو رہے ہیں، اس کو کیا سمجھا جائے‘، جو یہ سازش چل رہی ہے وہ بہت خطرناک ہے ۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے وزرا کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کی مدد سے اغوا کیا جا رہا ہے، یہ افرا تفری پھلانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ سیکریٹریٹ جس سے پورے صوبے کا نظام چل رہا ہے انھوں نے تھریٹس دے کر کام بند کروا دیے۔ وہاں کوئی تھریٹ نھیں تھا، کینٹ سارا افواج کے قبضے میں ہے ۔‘
سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ اس وقت چارسدہ جا رہے ہیں جہاں وہ لاپتہ صوبائی وزیر فضل شکور کے حجرے میں جائیں گے اور وہاں وہ کارکنوں سے خطاب کریں گے ۔

