Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب
    • وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » آپریشن بنیان مرصوص: پاکستان کی جوہری طاقت کا عالمی اعتراف
    اہم خبریں مئی 22, 2025

    آپریشن بنیان مرصوص: پاکستان کی جوہری طاقت کا عالمی اعتراف

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    تحریر: مبارک علی

    آپریشن بنیان مرصوص (10 مئی 2025) نے پاکستان کی جوہری طاقت کو عالمی سطح پر ایک ناقابلِ تردید حقیقت کے طور پر تسلیم کروایا اور اسے عالمی برادری کے سامنے ایک ذمہ دار، مضبوط، اور فیصلہ کن جوہری قوت کے طور پر پیش کیا۔
    آپریشن بنیان مرصوص کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو "طاقتور جوہری ملک” تسلیم کرتے ہوئے ایک اہم بیان دیا، جو پاکستان کی جوہری صلاحیت کے عالمی اعتراف کا نقطہِ عروج تھا۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کے مذاکرات کے دوران پاکستان اور بھارت کو برابر کے شراکت دار قرار دیا جو ماضی میں بھارت کی طرف جھکاؤ رکھنے والی امریکی پالیسی سے واضح انحراف تھا۔

    انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اور ان کی صلاحیتوں کا احترام ضروری ہے۔ یہ بیان پاکستان کی جوہری طاقت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے کھل کر پاکستان کی جوہری صلاحیت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسے خطے میں استحکام کا ایک اہم عنصر قرار دیا۔ اس بیان نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی ساکھ کو عالمی سطح پر مضبوط اور بھارتی پروپیگنڈے کو کمزور کیا، جو طویل عرصے سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتا رہا تھا۔

    آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستانی فوج نے جدید ٹیکنالوجی، فتح-1، فتح-2 میزائلوں، ڈرونز، اور سائبر وارفیئر کے ذریعے بھارتی جارحیت کا جواب دیا، لیکن جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق بیان قدرے نہیں دیا۔ اس تحمل نے عالمی برادری، خاص طور پراقوام متحدہ، چین، ترکی، اور یورپی ممالک کی جانب سے پاکستان کی تعریف کرنے پر مجبور کیا۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتھونیو گوتریس نے جنگ بندی کے مذاکرات کے دوران پاکستان کی "سنجیدہ اور ذمہ دارانہ پالیسی” کی تعریف کی، جبکہ چین نے اپنے بیان میں کہا کہ "پاکستان کی جوہری صلاحیت خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی ضامن ہے۔

    ماضی میں یورپی ممالک اور نیٹو پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے تھے، لیکن آپریشن بنیان مرصوص کی واضح اور فیصلہ کن کامیابی ان کے رویوں میں واضح تبدیلی کا باعث بنی۔
    نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بھی ایک بیان میں کہا کہ "جنوبی ایشیا میں دو جوہری طاقتوں کے درمیان تنازع عالمی امن کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے، اور اسے سفارتی طور پر حل کیا جانا چاہیے۔” اس بیان میں پاکستان کو بھارت کے برابر ایک جوہری قوت کے طور پر تسلیم کیا گیا، جو ماضی کے مغربی بیانیے سے مختلف تھا، جہاں پاکستان کے جوہری پروگرام پر سوالات اٹھائے جاتے تھے۔ اس تبدیلی نے پاکستان کی سفارتی کامیابی کو اجاگر کیا۔

    پاکستان کی جوہری صلاحیت نے بھارت کو یہ پیغام دیا کہ کوئی بھی جارحیت ناقابلِ قبول نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی موجودگی نے بھارت کو مکمل جنگ سے روکا اور اسے جنگ بندی پر مجبور کیا۔ امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ "پاکستان کی جوہری صلاحیت نے جنوبی ایشیا میں ایک مکمل جنگ کو روکا، جو عالمی امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔” اس طرح پاکستان کی جوہری طاقت کو عالمی سطح پر خطے میں استحکام کا ایک اہم ستون تسلیم کیا گیا۔

    پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران اپنی جوہری صلاحیت کو ایک دفاعی ڈھال کے طور پر پیش کیا، جس نے بھارت کے اتحادیوں، خاص طور پر امریکہ اور یورپ، کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنگ بندی کے بعد کہا کہ "پاکستان کی جوہری صلاحیت ایک حقیقت ہے، اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Article9 مئی کے واقعات اور بھارتی حملوں میں زیادہ فرق نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
    Next Article خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان
    Web Desk

    Related Posts

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت

    ستمبر 8, 2026

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.