پاکستان نے افغان حکومت سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود اور شدت پسند گروہ کے کمانڈر حافظ گل بہادر کی فوری حوالگی کا مطالبہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ مطالبہ سرحد پار دہشت گردی میں تیزی اور متعدد حملوں کے تناظر میں کیا گیا ہے، جن میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دونوں مطلوب عناصر کی حوالگی نہ ہونے کی صورت میں سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہ مطالبہ حالیہ مہینوں میں افغانستان سے منصوبہ بند حملوں، بشمول بنوں اور دیگر علاقوں میں خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کے بعد سامنے آیا ہے، جن کی ذمہ داری TTP اور حافظ گل بہادر گروپ نے قبول کی ہے۔
نور ولی محسود TTP کے امیر کے طور پر 2018 سے قیادت کر رہے ہیں اور پاکستان انہیں افغانستان میں موجودہ دہشت گردی کے مرکزی ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ اسی طرح حافظ گل بہادر، جو پہلے TTP سے الگ رہے، اب اپنے گروپ کے ذریعے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ پاکستان نے گذشتہ برسوں میں متعدد بار افغان طالبان سے TTP کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
افغان حکام نے اب تک ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین TTP اور دیگر گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جس سے سرحدی علاقوں میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے۔ اگر حوالگی نہ ہوئی تو پاکستان کی جانب سے مزید فضائی کارروائیوں یا سرحدی تناؤ میں اضافے کا امکان ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے، لیکن اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی۔

