Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, ستمبر 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراطلاعات کا کوہاٹ کا دورہ، زخمیوں کی عیادت، سہیل آفریدی ڈیلیور نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں، عطا تارڑ
    • دہشت گرد تنظیموں سے تعلق پر پشیمانی، بازیاب خواتین نے بلوچ بہن بھائیوں سے معافی مانگ لی
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے
    • وزیر داخلہ محسن نقوی کا اسلام آباد پر دھاوا بولنے والوں کو بڑا پیغام
    • سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 37 دہشت گرد ہلاک
    • ہنگو میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشت گرد ہلاک، فائرنگ کے تبادلے میں 2 افسروں سمیت 6 جوان شہید
    • ایشن گیمزمیں پاکستان ہاکی ٹیم کا شاندار آغاز، تھائی لینڈ کو 0-9 سے شکست دیدی
    • خاران میں دہشت گردوں کا مسافروں کی گاڑی پر بم حملہ، ایک مزدور زخمی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا، خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافیوں کی رائے
    بلاگ مارچ 21, 2024

    پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا، خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافیوں کی رائے

    Facebook Twitter Email
    Pakistan's anti-terrorist operation in the Afghan border areas, the opinion of senior journalists in the program Cross Talk of Khyber News.
    Share
    Facebook Twitter Email
    پاکستان کی جانب سے نے افغان سرحدی علاقوں میں انسدادِ دہشتگردی آپریشن کے حوالے سے خیبر نیوز کے پروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافی حسن خان  نے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا تاکہ پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز کے حوصلہ بحال کیا جاسکے۔

    پاکستان کا بار بار افغانستان کو تنبیہ کرنے کے باوجود افغان طالبان نے اپنی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گردانہ حملے نہیں روکے۔ افغان طالبان کا پاکستان کے بار بار کہنے کے  باوجود ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پاکستان پر حملوں سے نہ روکنے سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ افغان طالبان یا تو ٹی ٹی پی سے بہت مجبور ہے اور دونوں کے درمیان تعلقات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی بجائے ٹی ٹی پی کو فوقیت دینا شروع کر دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان پالیسی ہمیشہ تضادات کا شکار رہی ہے، بدقسمتی سے افغان پالیسی سیاستدانوں کی بجائے اسٹیبلشمنٹ نے بنائی اور چلائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان میں گہرے روابط کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تناوٗ  ہے۔پاکستان نے ایسے سفیر کو افغانستان میں تعینات کیا ہےجو افغانستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

     انہوں نے کہا کہ اب بھی قطر اور چائینہ سے زیادہ افغان طالبان میں پاکستان کے اچھے روابط ہیں، علما کا بھی روابط قائم ہے، لیکن اس مسئلے کو سیاستدان پر چھوڑنا ہوگا ، سیاستدان ہی اس کا حل نکال سکتے ہیں۔دو ممالک کے درمیان تعلقات اس طرح استوار نہیں ہوسکتے کہ ہر روز آپ بارڈ کو بند رکھیں ، افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار افغان ایران تجارات  کا حجم پاک افغان تجارات سے بڑھا ہے۔انہوں نے کہا ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کابل اور اسلام اباد کے درمیان اب بھی بات ہوسکتی ہے لیکن اس کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے پڑھیں گے۔افغانستان کے معاملے پر ہمیں سنجیدہ ہونے پڑھیگا۔مولانا فضل الرحمان کے دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ افغانستان کامیاب رہا تھا انہوں نے اکر انہیں بریفینگ دے دی لیکن ہم نے ان کے فالو اپ نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں اور دونوں سے سٹریٹ ٹاک سے اجتناب کرنا چاہیئے۔  انہوںنے کہا کہ افغان طالبان کو بھی ٹی ٹی پی ایشو کو دیکھنا ہوگا، طالبان کی پہلی حکومت اسامہ بن لادن کی وجہ سے گئی تھی ، ایسا نہ ہو کہ اب کی بار بھی ٹی ٹی پی کی وجہ سے افغانستان پر حملہ ہو۔

    بات کرتے ہوئے رفعت اللہ اورکزئی نے کہا کہ طالبان کے دو سالہ اقتدار میں افغانستان سے پاکستان میں جتنے حملے ہوئے ہیں اتنے حملے تو اشرف غنی اور حامد کرزئی کے دور میں بھی نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اگر اسی طرح پاکستان افغانستان میں کارروائی کرتا ہے اور افغانستان اس کا جواب ایسا ہی دیتا ہے تو پھر یہ جنگ ہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے باقی آپشن میں تیزی لائے جیسا کہ مہاجرین کی واپسی، بارڈر پر مزید سخت اقدامات اور دونوں ممالک کے کاروبار کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھائیں اور مزید سختیاں لائیں۔ پڑوسی ممالک بشمول وہ ممالک جو دونوں ملکوں کے قریب ہیں ان سے بات کی جائیں۔تاکہ جنگ جیسی صورت نہ ہی بنے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے حالات ایسے ہیں کہ جنگ دونوں کیلئے آپشن نہیں ہے۔ پاکستان میں لاکھوں مہاجر ہیں ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ سے بہت نقصان ہوگا۔

     پاکستان کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان پر جس میں افغان طالبان قیادت کے کچھ رہنماوٗں کے ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنے کا کہا گیا تھا تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دفتر خارجہ کا اشارہ سراج الدین حقانی گروپ کی طرف ہے تو یہ بہت خطرناک ہوگا۔ پاکستان کے اس گروپ سے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں اور اس کا مطلب کہ افغان طالبان نے پاکستان سراج الدین گروپ کی حمایت بھی کھودی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان پالیسی بنانے ہوگی او اس پر تسلسل سے کام کرنا ہوگا، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آرمی چیف جنرل باجوہ کے دور میں ایک جنرل بلاواسطہ مذاکرات کرتا رہا لیکن موجودہ آرمی چیف نے کہا ہم نے بات کرنے ہی نہیں۔ لیکن ان دونوں فیصلوں پر ایوان میں بات ہی نہیں ہوئی۔ اور اس طرح کی غلطیوں سے ہی ہم آج یہاں تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں موجود ٹھکانے ملے ہیں اور پہلے کی نسبت اب وہ زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اس لئےٹی ٹی پی اب زیادہ حملے پاکستان کے اندر سے سیکیورٹی اداروں پر کر رہی ہے جو کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کیلئے ایک چینلج ہے۔جس کو حل کرنا بہت ضروری ہے۔

    Afghan border pakistan افغان سرحد پاکستان
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیرستان حملے کے بعد افغان حکام کو ڈیمارش کیا گیا تھا، دفتر خارجہ
    Next Article معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب کا مل بیٹھنا خوش آئند اور وقت کی ضرورت,وزیر اعظم
    Mahnoor

    Related Posts

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے

    ستمبر 21, 2026

    آئی ٹی تعلیم کا معیار بہتر بنانا اور گریجویٹس کے روزگار کے مواقع بڑھانا ترجیح ہے، احد چیمہ

    ستمبر 19, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

    ستمبر 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراطلاعات کا کوہاٹ کا دورہ، زخمیوں کی عیادت، سہیل آفریدی ڈیلیور نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں، عطا تارڑ

    ستمبر 21, 2026

    دہشت گرد تنظیموں سے تعلق پر پشیمانی، بازیاب خواتین نے بلوچ بہن بھائیوں سے معافی مانگ لی

    ستمبر 21, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے

    ستمبر 21, 2026

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا اسلام آباد پر دھاوا بولنے والوں کو بڑا پیغام

    ستمبر 21, 2026

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 37 دہشت گرد ہلاک

    ستمبر 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.