Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا، خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافیوں کی رائے
    بلاگ مارچ 21, 2024

    پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا، خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافیوں کی رائے

    Facebook Twitter Email
    Pakistan's anti-terrorist operation in the Afghan border areas, the opinion of senior journalists in the program Cross Talk of Khyber News.
    Share
    Facebook Twitter Email
    پاکستان کی جانب سے نے افغان سرحدی علاقوں میں انسدادِ دہشتگردی آپریشن کے حوالے سے خیبر نیوز کے پروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافی حسن خان  نے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا تاکہ پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز کے حوصلہ بحال کیا جاسکے۔

    پاکستان کا بار بار افغانستان کو تنبیہ کرنے کے باوجود افغان طالبان نے اپنی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گردانہ حملے نہیں روکے۔ افغان طالبان کا پاکستان کے بار بار کہنے کے  باوجود ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پاکستان پر حملوں سے نہ روکنے سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ افغان طالبان یا تو ٹی ٹی پی سے بہت مجبور ہے اور دونوں کے درمیان تعلقات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی بجائے ٹی ٹی پی کو فوقیت دینا شروع کر دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان پالیسی ہمیشہ تضادات کا شکار رہی ہے، بدقسمتی سے افغان پالیسی سیاستدانوں کی بجائے اسٹیبلشمنٹ نے بنائی اور چلائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان میں گہرے روابط کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تناوٗ  ہے۔پاکستان نے ایسے سفیر کو افغانستان میں تعینات کیا ہےجو افغانستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

     انہوں نے کہا کہ اب بھی قطر اور چائینہ سے زیادہ افغان طالبان میں پاکستان کے اچھے روابط ہیں، علما کا بھی روابط قائم ہے، لیکن اس مسئلے کو سیاستدان پر چھوڑنا ہوگا ، سیاستدان ہی اس کا حل نکال سکتے ہیں۔دو ممالک کے درمیان تعلقات اس طرح استوار نہیں ہوسکتے کہ ہر روز آپ بارڈ کو بند رکھیں ، افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار افغان ایران تجارات  کا حجم پاک افغان تجارات سے بڑھا ہے۔انہوں نے کہا ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کابل اور اسلام اباد کے درمیان اب بھی بات ہوسکتی ہے لیکن اس کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے پڑھیں گے۔افغانستان کے معاملے پر ہمیں سنجیدہ ہونے پڑھیگا۔مولانا فضل الرحمان کے دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ افغانستان کامیاب رہا تھا انہوں نے اکر انہیں بریفینگ دے دی لیکن ہم نے ان کے فالو اپ نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں اور دونوں سے سٹریٹ ٹاک سے اجتناب کرنا چاہیئے۔  انہوںنے کہا کہ افغان طالبان کو بھی ٹی ٹی پی ایشو کو دیکھنا ہوگا، طالبان کی پہلی حکومت اسامہ بن لادن کی وجہ سے گئی تھی ، ایسا نہ ہو کہ اب کی بار بھی ٹی ٹی پی کی وجہ سے افغانستان پر حملہ ہو۔

    بات کرتے ہوئے رفعت اللہ اورکزئی نے کہا کہ طالبان کے دو سالہ اقتدار میں افغانستان سے پاکستان میں جتنے حملے ہوئے ہیں اتنے حملے تو اشرف غنی اور حامد کرزئی کے دور میں بھی نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اگر اسی طرح پاکستان افغانستان میں کارروائی کرتا ہے اور افغانستان اس کا جواب ایسا ہی دیتا ہے تو پھر یہ جنگ ہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے باقی آپشن میں تیزی لائے جیسا کہ مہاجرین کی واپسی، بارڈر پر مزید سخت اقدامات اور دونوں ممالک کے کاروبار کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھائیں اور مزید سختیاں لائیں۔ پڑوسی ممالک بشمول وہ ممالک جو دونوں ملکوں کے قریب ہیں ان سے بات کی جائیں۔تاکہ جنگ جیسی صورت نہ ہی بنے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے حالات ایسے ہیں کہ جنگ دونوں کیلئے آپشن نہیں ہے۔ پاکستان میں لاکھوں مہاجر ہیں ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ سے بہت نقصان ہوگا۔

     پاکستان کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان پر جس میں افغان طالبان قیادت کے کچھ رہنماوٗں کے ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنے کا کہا گیا تھا تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دفتر خارجہ کا اشارہ سراج الدین حقانی گروپ کی طرف ہے تو یہ بہت خطرناک ہوگا۔ پاکستان کے اس گروپ سے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں اور اس کا مطلب کہ افغان طالبان نے پاکستان سراج الدین گروپ کی حمایت بھی کھودی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان پالیسی بنانے ہوگی او اس پر تسلسل سے کام کرنا ہوگا، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آرمی چیف جنرل باجوہ کے دور میں ایک جنرل بلاواسطہ مذاکرات کرتا رہا لیکن موجودہ آرمی چیف نے کہا ہم نے بات کرنے ہی نہیں۔ لیکن ان دونوں فیصلوں پر ایوان میں بات ہی نہیں ہوئی۔ اور اس طرح کی غلطیوں سے ہی ہم آج یہاں تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں موجود ٹھکانے ملے ہیں اور پہلے کی نسبت اب وہ زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اس لئےٹی ٹی پی اب زیادہ حملے پاکستان کے اندر سے سیکیورٹی اداروں پر کر رہی ہے جو کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کیلئے ایک چینلج ہے۔جس کو حل کرنا بہت ضروری ہے۔

    Afghan border pakistan افغان سرحد پاکستان
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیرستان حملے کے بعد افغان حکام کو ڈیمارش کیا گیا تھا، دفتر خارجہ
    Next Article معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب کا مل بیٹھنا خوش آئند اور وقت کی ضرورت,وزیر اعظم
    Mahnoor

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے

    ستمبر 21, 2026

    آئی ٹی تعلیم کا معیار بہتر بنانا اور گریجویٹس کے روزگار کے مواقع بڑھانا ترجیح ہے، احد چیمہ

    ستمبر 19, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.