Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اپریل 16, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔
    • پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز کی مشقیں جناح 13 کامیابی سے مکمل
    • ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر
    • ڈی ایچ اے پشاور میں منعقد ہونے والی Build & Beyond Expo 2026 کا باقاعدہ آغاز 16 اپریل سے ہو گیا ہے
    • وزیراعظم کا وژن مائکرو سمال اینڈ میڈم انٹرپرائزز کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرنا ہے، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر
    • امریکی سینیٹ نے ایران پر حملوں کے لیے کانگریس کی پیشگی منظوری کا قرارداد مسترد کر دیا
    • پاک بحریہ کا مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
    • شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ سے متجاوز، طویل لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا، خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافیوں کی رائے
    بلاگ

    پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا، خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافیوں کی رائے

    مارچ 21, 2024Updated:نومبر 11, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Pakistan's anti-terrorist operation in the Afghan border areas, the opinion of senior journalists in the program Cross Talk of Khyber News.
    Share
    Facebook Twitter Email
    پاکستان کی جانب سے نے افغان سرحدی علاقوں میں انسدادِ دہشتگردی آپریشن کے حوالے سے خیبر نیوز کے پروگرام کراس ٹاک میں سینیئر صحافی حسن خان  نے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں پاکستان کا  افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا ضروری تھا تاکہ پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز کے حوصلہ بحال کیا جاسکے۔

    پاکستان کا بار بار افغانستان کو تنبیہ کرنے کے باوجود افغان طالبان نے اپنی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گردانہ حملے نہیں روکے۔ افغان طالبان کا پاکستان کے بار بار کہنے کے  باوجود ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پاکستان پر حملوں سے نہ روکنے سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ افغان طالبان یا تو ٹی ٹی پی سے بہت مجبور ہے اور دونوں کے درمیان تعلقات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی بجائے ٹی ٹی پی کو فوقیت دینا شروع کر دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان پالیسی ہمیشہ تضادات کا شکار رہی ہے، بدقسمتی سے افغان پالیسی سیاستدانوں کی بجائے اسٹیبلشمنٹ نے بنائی اور چلائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان میں گہرے روابط کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تناوٗ  ہے۔پاکستان نے ایسے سفیر کو افغانستان میں تعینات کیا ہےجو افغانستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

     انہوں نے کہا کہ اب بھی قطر اور چائینہ سے زیادہ افغان طالبان میں پاکستان کے اچھے روابط ہیں، علما کا بھی روابط قائم ہے، لیکن اس مسئلے کو سیاستدان پر چھوڑنا ہوگا ، سیاستدان ہی اس کا حل نکال سکتے ہیں۔دو ممالک کے درمیان تعلقات اس طرح استوار نہیں ہوسکتے کہ ہر روز آپ بارڈ کو بند رکھیں ، افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار افغان ایران تجارات  کا حجم پاک افغان تجارات سے بڑھا ہے۔انہوں نے کہا ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کابل اور اسلام اباد کے درمیان اب بھی بات ہوسکتی ہے لیکن اس کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے پڑھیں گے۔افغانستان کے معاملے پر ہمیں سنجیدہ ہونے پڑھیگا۔مولانا فضل الرحمان کے دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ افغانستان کامیاب رہا تھا انہوں نے اکر انہیں بریفینگ دے دی لیکن ہم نے ان کے فالو اپ نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں اور دونوں سے سٹریٹ ٹاک سے اجتناب کرنا چاہیئے۔  انہوںنے کہا کہ افغان طالبان کو بھی ٹی ٹی پی ایشو کو دیکھنا ہوگا، طالبان کی پہلی حکومت اسامہ بن لادن کی وجہ سے گئی تھی ، ایسا نہ ہو کہ اب کی بار بھی ٹی ٹی پی کی وجہ سے افغانستان پر حملہ ہو۔

    بات کرتے ہوئے رفعت اللہ اورکزئی نے کہا کہ طالبان کے دو سالہ اقتدار میں افغانستان سے پاکستان میں جتنے حملے ہوئے ہیں اتنے حملے تو اشرف غنی اور حامد کرزئی کے دور میں بھی نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اگر اسی طرح پاکستان افغانستان میں کارروائی کرتا ہے اور افغانستان اس کا جواب ایسا ہی دیتا ہے تو پھر یہ جنگ ہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے باقی آپشن میں تیزی لائے جیسا کہ مہاجرین کی واپسی، بارڈر پر مزید سخت اقدامات اور دونوں ممالک کے کاروبار کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھائیں اور مزید سختیاں لائیں۔ پڑوسی ممالک بشمول وہ ممالک جو دونوں ملکوں کے قریب ہیں ان سے بات کی جائیں۔تاکہ جنگ جیسی صورت نہ ہی بنے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے حالات ایسے ہیں کہ جنگ دونوں کیلئے آپشن نہیں ہے۔ پاکستان میں لاکھوں مہاجر ہیں ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ سے بہت نقصان ہوگا۔

     پاکستان کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان پر جس میں افغان طالبان قیادت کے کچھ رہنماوٗں کے ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنے کا کہا گیا تھا تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دفتر خارجہ کا اشارہ سراج الدین حقانی گروپ کی طرف ہے تو یہ بہت خطرناک ہوگا۔ پاکستان کے اس گروپ سے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں اور اس کا مطلب کہ افغان طالبان نے پاکستان سراج الدین گروپ کی حمایت بھی کھودی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان پالیسی بنانے ہوگی او اس پر تسلسل سے کام کرنا ہوگا، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آرمی چیف جنرل باجوہ کے دور میں ایک جنرل بلاواسطہ مذاکرات کرتا رہا لیکن موجودہ آرمی چیف نے کہا ہم نے بات کرنے ہی نہیں۔ لیکن ان دونوں فیصلوں پر ایوان میں بات ہی نہیں ہوئی۔ اور اس طرح کی غلطیوں سے ہی ہم آج یہاں تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں موجود ٹھکانے ملے ہیں اور پہلے کی نسبت اب وہ زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اس لئےٹی ٹی پی اب زیادہ حملے پاکستان کے اندر سے سیکیورٹی اداروں پر کر رہی ہے جو کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کیلئے ایک چینلج ہے۔جس کو حل کرنا بہت ضروری ہے۔

    Afghan border pakistan افغان سرحد پاکستان
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیرستان حملے کے بعد افغان حکام کو ڈیمارش کیا گیا تھا، دفتر خارجہ
    Next Article معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب کا مل بیٹھنا خوش آئند اور وقت کی ضرورت,وزیر اعظم
    Mahnoor

    Related Posts

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    نمازِ جنازہ میں سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔

    اپریل 16, 2026

    پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز کی مشقیں جناح 13 کامیابی سے مکمل

    اپریل 16, 2026

    ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر

    اپریل 16, 2026

    ڈی ایچ اے پشاور میں منعقد ہونے والی Build & Beyond Expo 2026 کا باقاعدہ آغاز 16 اپریل سے ہو گیا ہے

    اپریل 16, 2026

    وزیراعظم کا وژن مائکرو سمال اینڈ میڈم انٹرپرائزز کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرنا ہے، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر

    اپریل 16, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.