Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اپریل 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پشاور امن جرگہ اور قومی سلامتی۔ ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • خیبر سحر میں ٹک ٹاکر ڈاکٹر ذی کی شرکت، مداحوں سے دلچسپ گفتگو
    • مرکہ ود مبارک علی: حالاتِ حاضرہ پر مبنی اہم ٹاک شو ناظرین کی توجہ کا مرکز
    • فنکاروں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: سعیدہ خان
    • باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    • ریاستی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم
    • پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی سے متعلق جھوٹی خبروں کی تردید
    • بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، اس بار ڈرامہ کیا تو کلکتہ تک پہنچا کرآئیں گے، خواجہ آصف
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشاور امن جرگہ اور قومی سلامتی۔ ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    بلاگ

    پشاور امن جرگہ اور قومی سلامتی۔ ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور میں منعقدہ امن جرگہ ایک بنیادی ریاستی سوال کے ساتھ سامنے آیا: کیا پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہو سکتا ہے بغیر اس کے کہ وہ اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور سرحدی تحفظ کے تقاضوں میں نرمی پیدا کرے؟ اس جرگے کا جواب واضح، صریح اور غیر مبہم تھا: امن مطلوب ہے، مگر قومی سلامتی کی قیمت پر نہیں۔
    یہی اس جرگے کی اصل سیاسی اہمیت ہے۔ اس نے امن کو کمزوری کے مترادف اور سلامتی کو محض عسکری ردِعمل کے برابر سمجھنے والی سطحی تقسیم کو رد کیا۔ اس کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ پاکستان کے لیے پائیدار امن اور مضبوط قومی سلامتی دو متضاد تصورات نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے تکملے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، یہ جرگہ ایک جذباتی امن بیانیہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار ریاستی امن بیانیہ پیش کرتا ہے۔
    پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی موجودہ کشیدگی کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو اس کے محرکات کو دو بڑی جہتوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلی جہت سلامتی سے متعلق ہے: سرحد پار دہشت گردی، دراندازی، تحریک طالبان پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں کا سوال، اور ایسی کارروائیاں جنہیں پاکستان اپنی داخلی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کرتا ہے۔ دوسری جہت سیاسی و ادارہ جاتی ہے: سرحدی نظم و نسق کی کمزوریاں، ریاستی اداروں کے درمیان گہری بداعتمادی، مہاجرین کے حساس معاملات، خودمختاری کے دعووں کا تصادم، اور یہ حقیقت کہ دونوں ریاستیں ایک دوسرے کے اقدامات کو دفاعی کے بجائے جارحانہ معنی دیتی ہیں۔ انہی عناصر کے امتزاج سے وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس میں سرحد محض جغرافیائی حد نہیں رہتی، بلکہ سلامتی، وقار اور سیاسی نفسیات کا مستقل بحران بن جاتی ہے۔
    اسی پس منظر میں پشاور امن جرگے کی مداخلت اہم ہو جاتی ہے۔ اس جرگے نے فوری جنگ بندی، مسلسل رابطے، مذاکراتی عمل کی بحالی، اور ایک دوسرے کے خلاف سرزمین استعمال نہ ہونے کے اصول پر زور دیا۔ بظاہر یہ مطالبات عمومی اور اخلاقی معلوم ہو سکتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ نہایت بنیادی ریاستی تقاضے ہیں۔ اگر دو ہمسایہ ممالک اس اصول پر بھی متفق نہ ہو سکیں کہ ان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، تو پھر اعتماد سازی، سفارت کاری اور امن کی ہر بات کمزور بنیادوں پر قائم ہوگی۔
    یہاں سابق وفاقی وزیر ساجد حسین طوری کا بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا ہے، کیونکہ اس نے جرگے کے فکری اور سیاسی محور کو دوٹوک انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے قومی مفاد، قومی سلامتی، خودمختاری اور سرحدی تحفظ پر نہ پہلے کبھی سمجھوتہ ہوا ہے اور نہ آئندہ ہو سکتا ہے۔ یہ جملہ محض ایک جذباتی ردِعمل نہیں، بلکہ ایک مکمل ریاستی مؤقف کی ترجمانی کرتا ہے۔ ساجد حسین طوری نے امن کی بحث کو نرمی، کمزوری یا یک طرفہ مفاہمت کے دائرے میں نہیں رکھا، بلکہ اسے قومی وقار اور ریاستی ذمہ داری کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا۔
    ان کے بیان کی دوسری اہم جہت یہ تھی کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، ان کے بعد یہ کسی طور قابلِ قبول نہیں کہ اس کے خلاف دہشت گردی، دراندازی یا تخریبی کارروائیوں کے لیے کسی بھی طرف سے سہولت، خاموشی یا چشم پوشی اختیار کی جائے۔ یہ مؤقف نہ صرف پاکستان کے سلامتی بیانیے کا حصہ ہے، بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ ایسا امن جو ریاستوں کو اپنے خلاف غیر ریاستی یا دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کو برداشت کرنے پر مجبور کرے، درحقیقت امن نہیں بلکہ منجمد بحران ہوتا ہے۔
    یہی وہ مقام ہے جہاں پشاور امن جرگہ اپنی علامتی اہمیت سے آگے بڑھ کر ایک قابلِ غور سیاسی مداخلت بن جاتا ہے۔ تاہم یہاں ایک اہم امتیاز کو واضح رکھنا ضروری ہے: علامتی اہمیت اور عملی اثر ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ اس جرگے کی علامتی اہمیت بے شک نمایاں ہے، کیونکہ اس نے ایسے وقت میں مکالمے کی زبان کو زندہ کیا جب عسکری ردِعمل اور الزام تراشی غالب بیانیہ بن چکے تھے۔ لیکن اس علامتی اہمیت کو عملی اثر کے مساوی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ جرگہ نہ جنگ بندی نافذ کر سکتا ہے، نہ سرحدی حملوں کو روک سکتا ہے، نہ عسکری گروہوں کو ختم کر سکتا ہے، اور نہ ریاستی اداروں کو اپنی تجاویز پر عمل درآمد کے لیے مجبور کر سکتا ہے۔ اس کی اصل قدر اس کی نیت میں نہیں، بلکہ اس امکان میں ہے جو وہ پالیسی سطح پر پیدا کرتا ہے۔
    اسی نکتے پر اس جرگے کی سب سے سخت اور سنجیدہ تنقید بھی قائم ہوتی ہے۔ اگر پشاور جرگہ ادارہ جاتی پیش رفت پیدا نہ کر سکا، تو اس کی اہمیت اخلاقی ضرور رہے گی، مگر سیاسی نہیں۔ خطے میں اس سے پہلے بھی متعدد باوقار اور سنجیدہ فورمز وجود میں آئے، مگر چونکہ وہ ریاستی ڈھانچوں، سفارتی اداروں اور عملی انتظامی نظام سے نہ جڑ سکے، اس لیے ان کی آواز دیرپا پالیسی میں تبدیل نہ ہو سکی۔ اگر پشاور امن جرگہ بھی اسی انجام سے بچنا چاہتا ہے، تو اسے محض قراردادوں اور تقاریر سے آگے جانا ہوگا۔
    یہاں ساجد حسین طوری کا ایک اور اہم نکتہ قابلِ غور ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، مگر ایسا امن جو برابری، باہمی احترام اور واضح ریاستی ذمہ داری کی بنیاد پر قائم ہو۔ اس جملے میں دراصل اس پورے بحران کے حل کی شرط موجود ہے۔ امن کا مسئلہ اب نیت کا نہیں، ڈھانچے کا ہے۔ پاکستان کے لیے قابلِ قبول امن وہی ہو سکتا ہے جو یک طرفہ تحمل، مبہم ذمہ داری اور غیر واضح سکیورٹی ماحول پر مبنی نہ ہو، بلکہ جس میں ہر فریق اپنی ریاستی ذمہ داری قبول کرے۔
    پشاور امن جرگے کی ایک بڑی معنوی طاقت یہ بھی ہے کہ اس نے سرحدی کشیدگی کو انسانی مسئلہ بھی قرار دیا۔ ریاستی پالیسی اکثر سرحد کو عسکری اصطلاحات میں بیان کرتی ہے: حملے، جوابی کارروائیاں، دفاعی پوزیشنیں، نگرانی اور ردِعمل۔ مگر سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے اس تنازعے کی صورت کچھ اور ہوتی ہے: بند بازار، معطل تجارت، بے گھر خاندان، خوف زدہ بستیاں، اور ایک ایسا عدم تحفظ جو روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس اعتبار سے جرگے نے یہ درست یاد دہانی کرائی کہ قومی سلامتی کا تصور محض فوجی یا ریاستی نہیں، بلکہ انسانی اور معاشرتی بھی ہے۔
    تاہم اگر اس جرگے کے پیغام کو واقعی نتیجہ خیز بنانا ہے، تو اسے فوری طور پر ایک عملی پالیسی سمت میں منتقل کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں چند اقدامات ناگزیر ہیں۔
    سب سے پہلے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مستقل شہری رابطہ فورم قائم کیا جانا چاہیے۔ یہ فورم محض نمائشی نہ ہو، بلکہ ایک منظم پلیٹ فارم ہو جس میں دانشور، سابق سفارت کار، سابق انتظامی و سلامتی اہلکار، سرحدی علاقوں کے معتبر افراد، قبائلی عمائدین، تاجر برادری، بے گھر آبادیوں کے نمائندے، خواتین اور نوجوان شامل ہوں۔ ایسا فورم ریاستی سطح سے باہر ہو، مگر ریاستی سطح سے کٹا ہوا نہ ہو۔ اس کا مقصد زمینی حقائق، انسانی مسائل اور اعتماد سازی کی تجاویز کو مسلسل بنیادوں پر مرتب کرنا ہونا چاہیے۔
    دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ جرگے کی سفارشات کو رسمی سفارتی ذرائع سے باقاعدہ جوڑا جائے۔ اگر یہ تجاویز محض سماجی اپیل بن کر رہ گئیں تو ان کا عملی اثر بہت محدود رہے گا۔ ضروری ہے کہ وزارتِ خارجہ، متعلقہ پارلیمانی کمیٹیاں، سرحدی انتظامیہ، اور پاکستان۔افغانستان سفارتی رابطہ نظام ان سفارشات کو باضابطہ طور پر وصول کریں، ان پر غور کریں، اور قابلِ عمل نکات کو ریاستی پالیسی کے ساتھ مربوط کریں۔
    تیسرا، مقامی سطح پر جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے مواصلاتی نظام قائم کیے جائیں۔ سرحدی واقعات اکثر اس لیے بڑے بحران میں بدل جاتے ہیں کہ ان کے فوری بعد رابطے کا کوئی مؤثر مقامی نظام موجود نہیں ہوتا۔ سرحدی اضلاع، مقامی انتظامیہ، متعلقہ سکیورٹی حکام، منتخب نمائندوں اور سماجی معتبرین کے درمیان ایک ہنگامی رابطہ نظام کشیدگی کو بڑھنے سے پہلے روک سکتا ہے۔
    چوتھا، انسانی اور تجارتی روابط کو عسکری کشیدگی سے حتی الامکان الگ رکھا جائے۔ اگر ہر سرحدی واقعے کے ساتھ تجارت، بنیادی اشیائے ضرورت کی رسد، یا انسانی نقل و حرکت فوراً معطل ہو جائے، تو اس کا سب سے زیادہ بوجھ عام آبادی اٹھاتی ہے۔ اس لیے انسانی امداد، تجارت، اور روزمرہ معاشی روابط کے لیے ایسے انتظامات کیے جانے چاہییں جو عسکری تناؤ کے باوجود مکمل تعطل کا شکار نہ ہوں۔
    پانچواں، امن کے عمل میں نمائندگی کے دائرے کو وسیع کیا جائے۔ اگر ایسی کوششیں صرف چند بااثر مردوں، سیاست دانوں یا سابق اہلکاروں تک محدود رہیں گی تو ان کی سماجی بنیاد کمزور رہے گی۔ سرحدی آبادی، تاجر، بے گھر افراد، خواتین اور نوجوان — یہ سب تنازعے کے براہِ راست متاثرین ہیں، اس لیے انہیں امن کے عمل کا فعال حصہ بنانا ضروری ہے۔
    اور آخر میں، سب سے بنیادی قدم یہ ہے کہ ایک روزہ امن اجتماعات کو ادارہ جاتی تعامل میں تبدیل کیا جائے۔ یہی اصل کسوٹی ہے۔ جب تک ایسے جرگے مستقل ڈھانچے، باقاعدہ رابطے، اور ریاستی پالیسی سے مربوط عملی فورمز میں تبدیل نہیں ہوتے، وہ توجہ ضرور حاصل کریں گے مگر تبدیلی نہیں لا سکیں گے۔
    اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ پشاور امن جرگے نے ایک درست سوال اٹھایا، ایک درست توازن قائم کیا، اور ایک درست سمت کی نشاندہی کی۔ اس نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر ایسا امن نہیں جو اس کی سلامتی، خودمختاری یا قومی وقار کو کمزور کرے۔ اس نے یہ بھی یاد دلایا کہ سرحدی استحکام صرف عسکری ردِعمل سے حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے سیاسی تدبر، ادارہ جاتی ربط، مسلسل رابطہ، اور واضح ریاستی ذمہ داری درکار ہوگی۔
    اب اس جرگے کی اصل آزمائش تقریروں میں نہیں، اداروں میں ہوگی۔ اگر اس کے بعد مستقل شہری رابطہ فورم، رسمی سفارتی ربط، مقامی جنگ بندی مواصلاتی نظام، سرحدی آبادیوں کی شمولیت، اور تجارت و انسانی روابط کے تحفظ جیسے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں، تو پشاور جرگہ محض علامت نہیں رہے گا، بلکہ پالیسی سمت کا نقطۂ آغاز بن جائے گا۔
    مختصراً، پشاور امن جرگے کا اصل سبق یہ ہے کہ امن کی پائیداری حسنِ نیت سے نہیں، بلکہ ذمہ داری، ادارہ جاتی اتصال، اور واضح ریاستی عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ امن کی اصل آزمائش تقریروں میں نہیں، اداروں میں ہوتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر سحر میں ٹک ٹاکر ڈاکٹر ذی کی شرکت، مداحوں سے دلچسپ گفتگو
    Web Desk

    Related Posts

    ریاستی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم

    اپریل 4, 2026

    دہشت گردی کی ناکامی اور بدلتی ہوئی حکمت عملی

    اپریل 3, 2026

    آپریشن غضب الحق کے بعد اسلام آباد اور کابل کا پہلا اعلیٰ سطح رابطہ: خطے میں سفارت کاری کا نیا موڑ

    اپریل 1, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پشاور امن جرگہ اور قومی سلامتی۔ ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 4, 2026

    خیبر سحر میں ٹک ٹاکر ڈاکٹر ذی کی شرکت، مداحوں سے دلچسپ گفتگو

    اپریل 4, 2026

    مرکہ ود مبارک علی: حالاتِ حاضرہ پر مبنی اہم ٹاک شو ناظرین کی توجہ کا مرکز

    اپریل 4, 2026

    فنکاروں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: سعیدہ خان

    اپریل 4, 2026

    باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک

    اپریل 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.